مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 350
350 فرموده ۱۹۷۲ء د و مشعل راه جلد دوم کہ ہمارے احمدی دوستوں کے ووٹ سے ہزار کے لگ بھگ ہیں۔یہ اگر تمہیں ووٹ نہ بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے ستر ہزار ووٹوں میں ان کی نسبت ۱/۱۰ا ہے کہنے لگے نہیں احمدی ووٹر سات ہزار نہیں نو ہزار ہیں۔میں نے کہا اگر نو ہزار ہیں تب بھی کیا فرق پڑتا ہے۔کہنے لگے فرق یہ پڑتا ہے کہ ہم نے سر جوڑے اور غور کیا اور آپس میں مشورے کئے اور حالات کا اندازہ لگایا تو ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ آپ کے ساتھ ۲۷ ہزار ووٹ ہے کیونکہ 9 ہزار آپ کا اور ۱۸ ہزار آپ ساتھ لے کر آئیں گے اور ساٹھ ستر ہزار کے حلقے میں ۲۷ ہزار ووٹ بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔اس لئے یہ ہوہی نہیں سکتا کہ جس امیدوار کی طرف یہ ووٹ جائیں وہ ہار جائے۔پس میں اپنے دوستوں سے یہ کہتا ہوں کہ آپ خواہ مخواہ کیوں گھبراتے ہیں۔اگر یہ عوامی حکومت ہے اور آپ عوام ہی کا ایک حصہ ہیں تو یہ آپ کی حکومت ہے۔اب جس حلقہ انتخاب میں ستائیس ہزار ووٹ کسی امیدوار کو احمدیت کی وجہ سے ڈالے گئے ہیں وہاں کے عوام جا کر اس کی گردن پکڑیں گے کہ تم کیوں غلط کام کر رہے ہو۔پس اس لحاظ سے ۲۲ لاکھ ووٹر سارے احمدی تو نہیں مگر کچھ احمدیوں کے اور کچھ اُن کے ساتھ تعلق رکھنے والے سمجھدار اور صاحب فراست اور صاحب شرافت دوستوں کے، دونوں کی مل کر تعداد کم و بیش اتنی ضرور ہوگی واللہ اعلم بالصواب۔اس لئے ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کے قومی تحویل میں چلے جانے کی وجہ سے گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس علاقہ کے عوام کی مرضی کے خلاف ان تعلیمی اداروں کی روایات توڑ دی جائیں اور کوئی اور پالیسی اختیار کی جائے۔اگر ایسا ہوا تو ہمارے یہاں کے عوام کہیں گے کہ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا جس طرح ہماری مرضی ہو گی اس طرح کالج چلے گا کیونکہ اگر عوامی حکومت نے عوامی حکومت رہنا ہے تو پھر یہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق کالج چلے گا۔فرض کریں ہمارے کالج میں کوئی بڑا سخت متعصب پر نسپل آ جاتا ہے تو وہ بھی کالج کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلا سکتا۔کیونکہ ربوہ کے عوام کا یہ تقاضا ہو گا کہ اس طرح کالج کو چلاؤ اور عوامی حکومت کو ماننا پڑے گا یا عوامی حکومت کو حکومت چھوڑنا پڑے گی یا یہ اعلان کرنا پڑے گا کہ اب ان کی حکومت عوامی حکومت نہیں رہی اس لئے دوستوں کو قطعا نہیں گھبرانا چاہیئے۔میں نے ضمناً یہ بات بتادی ہے کیونکہ کئی دوست آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب کیا ہوگا۔یہ سوچنے کی کیا ضرورت ہے کہ اب کیا ہوگا۔اب وہی ہو گا جو خدا تعالیٰ چاہے گا ہم نے خود آخر کیا کرنا ہے۔اگر ہم نے مل کر اور سر جوڑ کر احمدیت کو بنایا ہوتا تو ہمارے دل میں یہ سوال پیدا ہونا چاہیئے تھا کہ اب کیا ہوگا لیکن کیا تم نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کو قائم کیا ہے ! اور اس کو چلا رہے ہو! اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر جس نے یہ سلسلہ بنایا ہے وہ ہمارے اس سلسلہ کے کام بنانے والا ہے ہمیں تو کوئی فکر نہیں ہونی چاہیئے۔ہمیں اگر کوئی فکر ہے تو اس بات کا فکر ہے کہ جن قربانیوں کا ہم سے مطالبہ کیا جارہا ہے ہم ان کو لفظا اور معنا پورا کرنے والے ہوں۔چنانچہ آج تک احمدیت کے حق میں جو نتیجے نکلتے رہے ہیں وہ ہمیشہ ہی اللہ تعالیٰ کے پیار کو ظاہر کرتے رہے ہیں۔میری طبیعت ان دنوں بہت خراب تھی، بہت ضعف تھا کمر کے اعصاب اور عضلات میں درد کی وجہ سے