مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 339 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 339

کل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۲ء 339 دومشعل اللہ تعالیٰ نے انسان کو کچھ ایسا بنایا ہے کہ کچھ وقت اس کو کھانے کے لئے ملنا چاہئے اور کچھ وقت اس کو ہضم کرنے کے لئے ملنا چاہئے۔کھانے کی نسبت ہضم کرنے کا انتظام زیادہ اہم اور ضروری ہے۔کیونکہ جو لوگ موٹے ہو جاتے ہیں اور چربی چڑھ جاتی ہے ان میں حرکت قلب بند ہو جانے کے سبب زیادہ موتیں واقع ہو جاتی ہیں۔گو اس کی اور بھی بہت ساری وجوہات ہیں۔لیکن ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ عمدہ اور اور مرغن کھانے کھاتے ہیں لیکن ہضم نہیں کرتے۔حالانکہ کھانے اور ہضم کا میزان قائم رہنا چاہیئے۔ہمارے زمیندار دوست خوب محنت کرتے ہیں وہ بعض دفعہ ایک سیر آٹا کھا جاتے ہیں اور آسانی سے ہضم کر لیتے ہیں لیکن جو لوگ شہروں میں رہتے ہیں ان میں سے بعض چار چار پتلی پتلی چپاتیاں کھاتے ہیں۔جن کا وزن تین چار چھٹانک سے زیادہ نہیں ہوتا۔وہ انہیں بھی ہضم نہیں کر سکتے اور موٹے ہو جاتے ہیں۔کیونکہ ان کے کھانے اور ہضم کا توازن قائم نہیں رہتا۔یہ توازن قائم رکھنا چاہئے کیونکہ اس کے بغیر صحت قائم نہیں رہتی۔غرض اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو ذہنی ، اخلاقی اور روحانی صلاحیتیں دی ہیں ان کا بھی یہی حال ہے۔کچھ وقت ان کو چاہئے سیکھنے کے لئے کچھ وقت ان کو چاہئے اپنانے کے لئے۔مثلاً طلبہ کو دلچسپی ہوگی اس بات میں کہ نفسیات کے ماہرین نے یہ تجربہ کیا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک دفعہ اپنے کورس کے دو صفحے پڑھے اور اس کے بعد کتاب بند کر دے اور سات دن کے بعد پھر پڑھے تو بظاہر وہ سمجھے گا کہ مجھے بہت کم یاد ہے۔اور لیکن بس صفحہ کھلتا ہے تو اس کے حافظے کے صفحے پر کچھ حروف تو بڑے جلی اور کچھ بڑے پھیکے آتے ہیں۔پھر جب دوبارہ پڑھے گا تو جو حروف جلی نہیں پھیکے آئے ہوتے ہیں وہ نمایاں ہو جائیں گے اور زیادہ جلی ہو جائیں گے۔دراصل انسان کا ذہن بھی جانوروں کی طرح جگالی کرتا ہے یا انسانی جسم کی طرح ذہنی نظام ہضم بھی ہضم میں لگا رہتا ہے۔یہی حال اخلاقی اور روحانی قوتوں بھی کا ہے یہ نہیں کہ اگر آپ کسی پندرہ بیس سال کے خادم کو صبح سے لے کر اگلی صبح تک اور پھر اگلی صبح تک۔گویا چوبیس گھنٹے تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھانے یا سنانے لگ جائیں تو دو تین مہینے کے بعد اسے کوئی پتہ نہیں ہو گا کہ اس کے اندر کیا ڈال دیا گیا ہے۔کیونکہ اس کے اندر جو ڈالا گیا ہے اس کے حافظے میں اور اس کے حواس میں محفوظ نہیں رہا۔حافظے کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور بہت سی حسیں دی ہیں۔لیکن اس کو ہضم کرنے کا موقعہ نہیں دیا گیا تو ہضم کرنے کا موقعہ جس طرح جسم کو ملنا چاہئے اسی طرح روح کو ملنا چاہئے۔اسی طرح ذہن کو بھی ملنا چاہئے۔اسی طرح جو اخلاق سے تعلق رکھنے والا نفس انسانی ہے اس کو ملنا چاہئے۔اس کے لئے ہم کبھی پڑھاتے ہیں اور کبھی چھوڑ دیتے ہیں۔علم میں اضافہ کرنے کا طریق جہاں تک عملی زندگی کا تعلق ہے اس میں ہضم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔قادیان میں نو جوانوں کے لئے ہضم کے زیادہ مواقع تھے۔مثلاً دلیل سیکھ لی وفات مسیح کی۔اس قسم کی کوئی ایک دلیل سیکھ لیتے تھے اور پھر اس پر تبادلۂ خیال ہوتا رہتا تھا۔وہ دلیل ان کو بار بار اپنے ذہن میں حاضر کرنی پڑتی تھی۔اس سے دلیل کی تمام فروغ