مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 338 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 338

338 فرموده ۱۹۷۲ء دومشعل راه جلد دوم سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مورخہ ۱۸ حسان ۱۳۵۱ بهش بمطابق ۸ جون ۱۹۷۲ ، بعد ء نماز عصر ایوان محمود میں خدام الاحمدیہ کی سالانہ تربیتی کلاس سے جو اختتامی خطاب فرمایا تھا اس کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔یہ خطاب غیر مطبوعہ ہے۔تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: - آئندہ سالوں سے انشاء اللہ کچھ نئی باتیں اس تربیتی کلاس کے کورس میں رائج کی جائیں گی۔اس وقت تک جس طرح اسکول میں کلاسز لی جاتی ہیں اسی طرح آپ کو لیکچر دیئے گئے اور کتابوں کا کورس پڑھایا گیا اور اس کا امتحان لیا گیا لیکن جس طرح سکولوں اور کالجوں میں بعض ایسے مضامین بھی ہوتے ہیں جن کا ایک خاص معنی میں عملی زندگی سے تعلق ہوتا ہے اور جنہیں پریکٹیکل مضمون بھی کہا جاتا ہے۔اسی طرح آئندہ سے اس کلاس کے بھی ابتدا پریکٹیکل ہوا کریں گے۔ابتداء میں تھوڑے پیمانہ پر پھر تجربے کے بعد دیکھیں گے کہ کم کرنا ہے یا زائد سر دست اس کلاس کے لئے تین پریکٹیکل ہوا کریں گے۔اور اس کے لئے صدر صاحب پانچ آدمیوں کی ایک کمیٹی بنالیں اور مجھ سے مشورہ لے لیں۔جو میرے ذہن میں ہے وہ آپ کو ابھی نہیں بتاؤں گا۔پھر ان کو بتاؤں گا پھر وہ غور و فکر کریں اور مشوروں کی ضرورت ہو تو مشورہ کرنے کے بعد پورا Work Out کریں گے اور اگلے سال سے پریکٹیکل حصے شروع کئے جائیں گے اس کلاس کے لئے ایک تو یہ نئی ہدایت ہے۔ایک نئی چیز اس کلاس کے لئے اور وہ بھی پہلی دفعہ دی جارہی ہے۔کل میں نے جو تقریر کی تھی اس کا خلاصہ شعبہ زودنویسی نے تیار کیا اور ان کی طرف سے شائع ہوا ہے۔اور میری طرف سے آپ کو ابھی مل رہا ہے۔یہ خلاصہ ہے ان بنیادی نکات کا جو میں نے کل تقریر میں بیان کئے تھے۔اگر کسی غیر احمدی سے بات ہو جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ میں سے سمجھدار بچے اس سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔مثلاً لوگ ہم پر یہ جھوٹا الزام لگاتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں۔ہمارا تو یہ دعوی ہے کہ ہم ہی ختم نبوت کے قائل اور خاتم النبین کو پوری شان سے تسلیم کرنے والے ہیں۔اور آپ کی تمام صفات اور آپ کے سارے حسن و احسان کے ساتھ آپ پر ایمان لانے والے اور آپ کی تمام صفات اور آپ کے سارے حسن واحسان کے ساتھ آپ پر ایمان لانے والے ہیں۔بہر حال سات آٹھ صفحے کا یہ خلاصہ ہے میری کل کی تقریر کا جس کے متعلق ارادہ تو بہت مختصر کرنے کا تھا لیکن بہر حال لمبی ہوگئی۔اس کا خلاصہ آپ کے سامنے ہے اس کو آپ دیکھیں گے۔تو کچھ نہ کچھ باتیں آپ کے ذہن میں آجائیں گی۔آج کل ویسے ہی دنیا میں تھے دینے کا رواج ہے۔سیاح چھوٹے سے چھوٹے گاؤں میں بھی جائیں تو کوئی نہ کوئی چیز وہاں سے خرید لیتے ہیں چنانچہ یہاں سے آپ اور بہت ساری چیزیں جو تحفہ لے جارہے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔