مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 324 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 324

324 فرموده ۱۹۷۲ء د و مشعل راه جلد د دوم جانوں کا قربان کرنا اموال کی قربانی دینا۔بشاشت کے ساتھ آگ کے اندر کود جانا۔ایسے اعمال ہیں جو رائیگاں نہیں جاتے۔تاہم کسی کے متعلق آگ کو بھی حکم دے دیا کہ تو اسے اس دنیا میں بھی نہیں جلائے گی۔کسی کے متعلق یہ حکم دے دیا کہ اس دنیا میں جلالے اس اُخروی زندگی میں نہیں جلائے گی۔یعنی جنت کے اندر آگ کا کوئی دخل نہیں ہوگا۔نہ وہاں اس کا کہنا مانا جائے گا دوزخ میں اس کا کہنا جلانے کے متعلق مانا جائے گا۔روپیہ لے کر سو روپے دے دے تو کیا بچے نے کوئی تکلیف اٹھائی؟ کیا کہتا ہے آپ کے بچپنے کا دماغ۔اس کو کوئی نقصان پہنچا کہ فائدہ پہنچا۔؟ کوئی نقصان نہیں پہنچا کیونکہ روپیہ دے کر اس نے سو روپیہ لے لیا۔اگر اس زندگی کے بعد دوسری زندگی ہے اور یقینا ہے تو اس دنیا کی قربانیاں کوئی نقصان نہیں پہنچا تیں۔اس لئے ہمیں صحابہ کی زندگی میں یہی نظر آتا ہے کہ وہ اس دنیا سے دوسری دنیا میں اسی طرح ہنستے کھیلتے اور بشاشت سے چلے جاتے تھے۔جس طرح ایک آدمی اپنے گھر کے ایک کمرہ سے دوسرے کمرہ میں چلا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اس حقیقت کو پا لیا تھا کہ یہ دنیا باطل نہیں ہے۔یہ سارا کارخانہ اور یہ سارا نظام جسے لاکھوں سالوں پہلے قائم کیا یعنی زمین کو پیدا کیا۔انسان کو قبول کرنے کے لئے پھر ہزاروں سالوں میں انسانوں کو تیار کیا حضرت محمدعلی کو قبول کرنے کے لئے اور شروع سے ہی آسمان سے شریعت نازل کی اور خدا تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیجا کہ میرے بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کا سامان پیدا کرو۔لیکن اس کو آزادی دی کیونکہ خدا چاہتا ہے کہ ایک ایسی مخلوق بھی ہو جو اس سے ذاتی پیار رکھتی ہو ہر آن ہر لحظہ دنیا کی ہر مخلوق خدا تعالیٰ کی حمد کر رہی ہے۔مگر حمد کرنے پر مجبور ہے۔خدا نے کہا میں ایک ایسی مخلوق بنانا چاہتا ہوں جو مجبور نہ ہوا اور پھر بھی میری حمد کرے میری صفات کی معرفت حاصل کر لے۔چنانچہ اس نے انسان کو پیدا کیا۔پھر انسانوں میں سب سے افضل حضرت محمد ملتے تھے۔صلى الله علي میں نے جو باتیں بتائی ہیں یہ ایک لحاظ سے تمہید بنتی ہے اور یہ تمہید بنتی ہے اس بات کی محمد کے خاتم الانبیاء ہیں۔ساری مخلوق کو سارے عالمین کو لاکھوں سال تک اسی کام پر لگایا گیا کہ زمین کو تیار کریں انسان کو قبول کرنے کے لئے اور پھر ہزاروں سال انبیاء کو اور ان کی قوموں کو اس کام پر لگایا گیا کہ تربیت دیں۔نوع انسان کو نسلاً بعد نسل کہ ان کے روحانی اور دوسرے قومی اتنے ترقی یافتہ ہو جائیں کہ محمد ﷺ کو قبول کر لیں لیکن محمد ﷺ کو یا آپ ﷺ کی امت کو اس کام پر نہیں لگایا گیا کہ کوئی آپ سے بڑھ کر آنے والا تھا جس کو قبول کرنے کے لئے بنی نوع انسان کو تیار کیا جانا تھا۔آخری نقطۂ عروج جو انسانیت کا نقطۂ عروج ہے وہاں جب انسان پہنچ گیا اور جو بلند تر مقام اللہ تعالیٰ کے داہنے طرف عزت اور احترام اور خدا کے پیار کی اور خدا تعالیٰ کے حسن کے جلوں کی اصل آماجگاہ جو تھا۔اس کرسی پر خدا نے اپنے پیارے محمد ﷺ کو بھا دیا۔یہ ہے خاتم الانبیاء کا مقام آخر میں آنا نہیں۔عجیب بات ہے کہ جس سمندر نے انتیس ہزارفٹ بلند ہمالیہ کی چوٹی پر پانی پہنچادیا۔(ہمالیہ بہت بڑا پہاڑ ہے جس کی ایک چوٹی دنیا میں سب سے اونچی ہے)۔جس کی انتیس ہزار اور کچھ فٹ کی بلندی ہے۔سطح سمندر سے اور پانی وہاں نہیں چڑھ سکتا۔کئی آپ میں سے جو زمیندار ہیں وہ جانتے ہیں کہ نچلی طرف سے پانی اوپر لے جانے کے