مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 320
320 فرموده ۱۹۷۲ء د و مشعل راه جلد دوم دد انکار نہیں کیا۔گویا ایک تو یہ خدمت جو ہر کس و ناکس کی ہورہی ہے۔ایک دوسری قسم کی خدمت ہے جس کے لئے انسان کو کوشش کرنی پڑتی ہے۔جہاں انسان کہ لئے کوشش کا سوال پیدا ہو جائے وہاں اس کے لئے دوامکان ہیں۔انسان آزاد ہے تبھی وہ اشرف الخلوقات بنا۔وہ نیکی کا راستہ اختیار کرے یا بدی کا راستہ اختیار کرے گویا جہاں بھی اپنی مرضی سے خدمت لینے کا سوال پیدا ہوا وہاں دور ا ہیں کھل گئیں۔ایک نیکی کی راہ دوسری بدی کی راہ۔جہاں لوہے سے تلوار بنا کر دشمن کا مقابلہ کرنے کی خدمت لوہے سے لینے کا سوال پیدا ہو وہاں خدا تعالیٰ نے لوہے سے یہ بھی کہا کہ اگر میرا بندہ تجھ سے دشمن کے دفاع کا کام لینا چاہتا ہے تو کام کرنا تجھے اسی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔لیکن یہ دوسری قسم کی خدمت ہے۔جب وہ کوشش کرے۔لوہے کی قسمیں بنائے پھر ا چھے لوہے کا انتخاب کرے پھر اس کو تلوار کی شکل میں ڈھالے اور اس کی دھار کو تیز کرے اور پھر اس تلوار کو چلانے کی مہارت حاصل کرے تو لوہے سے کہا گیا کہ اس کے دشمن کا گلا کاٹ دینا۔لیکن یہ خدمت انسان خود تجھ سے لے گا۔تاہم انسان اس تلوار سے دو قسم کی خدمت لے سکتا تھا اس نے اس سے خدمت کی یا لینے کی کوش کی۔ابو جہل نے تلوار سے اسلام کے خلاف خدمت لی۔اور حضرت ابو بکر نے اس سے حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے نام کو بلند کرنے کے لئے خدمت لی۔پس خدمتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک خدمت وہ ہے جو خدائی مخلوق خود بخود ہماری کوشش کے بغیر کرتی ہے۔دوسری وہ خدمت ہے جو ہمیں اپنی کوشش اور اپنے علم اور اپنے عزم کہ نتیجہ میں لینی پڑتی ہے۔میں اب اس دوسری قسم کی خدمت کو لے رہا ہوں۔جہاں انسان نے اپنی مرضی اور منشاء سے خدا تعالیٰ کی مخلوق سے خدمت لینی تھی۔وہاں جب کہ میں نے بتایا ہے اس کے لئے دور ہیں کھلی تھیں یا بد خدمت لے یا نیک خدمت لے۔فاسقانہ عمل ہو یا مومنانہ عمل ہو دونوں راہیں اس کے لئے کھلی ہیں۔جب انسان کے لئے اس خدمت کے لینے میں دور ہیں کھلی تھیں تو عقل ہمیں کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اگر اپنے بندوں کو بچانا تھا تو آسمان سے ہدایت نازل ہونی چاہئے تھی۔سلسلہ انبیاء کے قیام کی یہی وجہ ہے۔خدا تعالیٰ کی مخلوق سے جو خادم کی حیثیت رکھتی ہے انسان اس سے خدمت لیتے وقت بہک نہ جائے اور بھٹک نہ جائے۔راہ راست پر قائم رہے اور وہ خدمت لے جو خدا تعالیٰ کا منشاء ہے۔چنانچہ اس غرض کے لئے انبیاء علیہ السلام کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔غرض اس دوسری قسم کی خدمت کا تقاضا یہ تھا کہ خدا آسمان سے اترے اور انسان کی انگلی پکڑے اور کہے تمہیں اجازت تو ہے بھٹکنے کی لیکن تمہارے لئے ایک راہ یہ ہے میری انگلی پکڑ لو گے تو راہ راست سے بھٹکو گے نہیں تاہم اس میں جبر کوئی نہیں۔اگر چاہو تو میری انگلی پکڑ لو تا کہ انسانی شرف نمایاں طور پر مخلوق کے سامنے آ جائے اور وہ غرض پوری ہو جائے جس کے لئے یہ کائنات معرض وجود میں آتی ہے۔بس سلسلہ انبیاء شروع ہو گیا۔اس لحاظ سے ایک خدمت وہ ہے جو انسان نے مخلوق خدا سے اپنی مرضی سے لینی تھی۔اس دوسری قسم کی خدمت کو میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔