مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 27 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 27

27 فرموده ۱۹۶۶ء دو مشعل راه جلد دوم میں ان باتوں کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیئے تاکہ بچوں کے ذہن نشین ہو جائے کہ اسلام کس قسم کے اخلاق ہمیں سکھا رہا ہے۔شروع میں جب کہ میں نے بتایا ہے ہم گھروں سے کرالیں اور ٹوکریاں مانگ لیا کرتے تھے۔لیکن بعد میں میں نے سوچا کہ ایک تو مانگنا بری بات ہے۔اس طرح بہر حال دوسرے کا احسان لینا پڑتا ہے اس لئے ہمیں اپنا سامان خریدنا چاہیئے۔چنانچہ ہم نے اپنا سامان خرید نا شروع کیا۔اور جب ہم قادیان سے ادھر آئے تو اس وقت کئی سو کرالیں اور بیلچے اور غالبا ڈیڑھ دو ہزار ٹوکریاں ہمارے پاس موجود تھیں۔اور یہ سارا سامان مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کا تھا۔یہ سامان مقام وقار عمل پر جاتا تھا اور استعمال ہوتا تھا اور پھر اس کی حفاظت کی جاتی تھی۔یہاں چونکہ اس قسم کا وقار عمل نہیں منایا جاتا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرے خیال میں اس وقت مجلس خدام الاحمدیہ کے پاس چالیس کرالیں بھی نہیں ہوں گی۔خدا کرے کہ میرا خیال غلط ہو۔اس موقع پر حضور نے مکرم مرز لطف الرحمن صاحب معتمد مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ سے دریافت فرمایا کہ مجلس کے پاس کتنی کدالیں ہیں۔مرزا صاحب نے عرض کیا اس وقت مجلس کے پاس ۳۷ پرانی کدالیس ہیں اور چھپیں نئی خریدی گئی ہیں )۔وقار عمل کی روح اس کے بعد حضور نے فرمایا: - اگر یہاں اس قسم کا وقار عمل منایا جائے تو یہ کرالیں ناکافی ہیں۔اس قسم کے وقار عمل کیلئے کئی سو کرالیں ہونی چاہئیں۔قادیان میں ہم نے ۴۰ ء اور ۴۶ ء کے درمیان یعنی چھ سال کے اندر اندر اپنی ضرورت کو پورا کر لیا تھا۔لیکن یہاں اٹھارہ سال ( یعنی اس مدت سے تین گنا) ہو چکے ہیں۔لیکن مجلس نے اپنی ضرورت کو پورا نہیں کیا۔وقار عمل کی روح یہ ہے کہ ہر احمدی نوجوان کو اس بات کی عادت ڈال دی جائے کہ وہ کسی کام کو بھی ذلیل اور حقیر نہ سمجھے اور جب تک یہ ذہنیت ہمارے نوجوانوں میں پیدا نہ ہو اس وقت تک وہ ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے اہل ہو ہی نہیں سکتے۔جو ذمہ داریاں خدا تعالیٰ نے ان پر ڈالی ہوئی ہیں اور جن ذمہ داریوں کے نبھانے کیلئے ہم لوگ آپ کو کہتے رہتے ہیں۔سکاؤٹس کی تنظیم اب دیکھو سکاؤٹنگ ایک دنیوی تنظیم ہے مگر سکاؤٹس کو بھی ہمیشہ مشق کرائی جاتی ہے کہ اپنی روٹی آپ پکائیں۔میں بھی سکاؤٹ رہا ہوں۔مجھے بھی روٹی پکانی آتی ہے۔وقف عارضی کے سلسلہ میں جو دوست باہر جاتے ہیں انہیں بڑی سخت تاکید کی جاتی ہے کہ اپنا کھانا خود پکانا ہے۔کسی جماعت پر بار نہیں ڈالنا۔لیکن باوجود اس