مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 26
دومشعل مل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۶ء 26 روٹیاں آجاتی تھیں۔اور ہم اسے آپس میں تقسیم کر لیتے تھے۔آپ کو اس وقت ہنسی آرہی ہے مگر ہمیں اس وقت ایسی دال کھانے میں بڑا لطف آتا تھا۔پھر اس کے بعد مقام اجتماع میں ہی کھانا پکنے لگا۔پھر شروع میں چونکہ ضبط کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔اس کیلئے کئی سال تک ہمارا یہ دستور رہا ہے کہ مقام اجتماع سے باہر جانے کیلئے صدر مجلس کے علاوہ اور کوئی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔اب مقام اجتماع سے باہر جانے کی جائز یا نا جائز ضرورت پڑتی رہتی ہے۔اب جس شخص کو بھی کہنا ہے وہ بھی اور جس کو نہ کہنا ہے وہ بھی صدر کے پاس آ جائے گا۔اب مقام اجتماع میں جہاں بھی صدر مجلس جا رہے ہیں۔تمہیں چالیس آدمیوں نے ان کو گھیرا ہوا ہے اور پر چیاں ان کے آگے رکھ ہیں کہ ہم نے باہر جانا ہے ہمیں اجازت دیجئے۔یہ تجربے بھی ہم نے حاصل کئے ہیں۔غرض ان دنوں میں وقار عمل کی یہ مختلف شکلیں تھیں لیکن ہر دو ماہ کے بعد ہونے والا اجتماعی وقار عمل قریباً با قاعدگی سے ہوتا تھا۔ان مواقع پر اکثر حضرت مصلح موعوددؓ تشریف لے آتے تھے۔کہیں حضور مٹی کی ٹوکری اٹھا رہے ہیں، کہیں کدال سے مٹی کھود رہے ہیں۔ٹھیک جس طرح گھر کا ماحول ہوتا ہے اس ماحول میں وہ وقار عمل منایا جاتا تھا اور اس میں بڑا لطف آتا تھا۔شروع میں ہمارے پاس کرالیں نہیں تھیں۔شروع میں کام کیلئے کرالیں کہاں سے آنی تھیں۔کوئی دوسو کدال کی ہمیں ضرورت تھی اور پانچ سات سو ٹوکریوں کی ضرورت تھی اور ہم یہ کرالیں اور ٹوکریاں گھروں سے مانگتے تھے اور ان کدالوں اور ٹوکریوں کی ہم باقاعدہ رسیدیں لکھ کر دیتے تھے اور ہر کدال کے اوپر ایک نمبر لگاتے تھے اور جس وقت وقار عمل ختم ہوتا تھا تو مجھے اور میرے ساتھیوں کو دو دو تین تین گھنٹے بعد میں وہاں رہنا پڑتا تھا اور کدالوں اور ٹوکریوں کو محلوں میں ان گھروں میں بھیجنا پڑتا تھا۔عام طور پر کوئی کدال یا ٹوکری کم نہیں ہوتی تھی۔لیکن اگر خدانخواستہ کدال گم ہو جاتی تو ہم اس مالک کو اس کی قیمت ادا کرتے میں یہ بھی بتادوں کہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔لیکن یہ باتیں کیریکٹر بنانے والی ہیں۔اور بعض اخلاقی اقدار ایسی ہیں کہ جنہیں آپ کو یا درکھنا چاہیئے انہیں چھوڑنا نہیں چاہیئے۔دیکھ لو قادیان میں ہمارا اجتماع اس زمین پر ہوتا تھا جو قادیان کے محلوں میں احمدیوں کی خالی پڑی ہوئی ہوتی تھی۔لیکن ہم ان مالکوں سے اجتماع کرنے کی با قاعدہ اجازت لیا کرتے تھے۔مثلاً دار الانوار کی ایک کمیٹی بنی ہوئی تھی اور ایک یا دو دفعہ ہمارا سالانہ اجتماع دارالانوار میں ہوا ہے ( زیادہ تر ہمارا سالانہ اجتماع محلہ دارالشکر میں ہوا ہے ) ہم اس کمیٹی سے با قاعدہ دو دو ماہ پہلے اجازت لیتے تھے۔ہم ان کی خدمت میں لکھتے تھے کہ آپ کی زمین خالی پڑی ہوئی ہے۔یہ زمین آپ کی ملکیت ہے۔مہربانی فرما کر آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اسے خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کیلئے استعمال کرلیں۔کیونکہ اسلام نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آپ کسی دوسرے کی چیز کو بغیر اس کی اجازت کے استعمال میں لائیں۔خواہ آپ کے استعمال کے نتیجہ میں اس میں ذرہ بھر بھی فرق نہ پڑے مثلاً خالی زمین ہے بعد میں اس پر مکان بن جانے ہیں۔اس پر اجتماع کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔لیکن پھر بھی اجازت لینی ضروری ہے۔اس عمر