مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 258
فرموده۰ ۱۹۷ء 258 د دمشعل را راه جلد دوم مثلاً میں ہوں۔مجھ پر ہزارقسم کی ذمہ داریاں ہیں۔جماعت مجھے خط لکھتی ہے اپنے متعلق بھی اور اپنے کاموں کے متعلق بھی۔اب اگر مجھے یہ گمان ہو کہ میرے پاس کچی خبر نہیں آرہی تو میں صحیح فیصلے نہیں کر سکتا۔میں صحیح فیصلے تب ہی کر سکتا ہوں کہ جس طرف سے بھی مجھے اطلاع ملے وہ حقیقت پر بنی ہو اور لوگ کچی اطلاعیں دیتے ہیں اس واسطے جو ہمارے رائے ہوتی ہے دینی یا دنیوی معاملات کے متعلق وہ دوسروں کی آراء سے بہت مختلف ہوتی ہے۔کیونکہ یاد ان کے پاس جور پورٹیں آتی ہیں وہ آدھی بچی اور آدھی جھوٹی ہوتی ہیں۔آپ ان سے صحیح نتیجہ نکال ہی نہیں سکتے صحیح نتیجہ وہی شخص نکال سکتا ہے جس کے پاس کچی خبریں آتی ہوں اور اگر کوئی مشتبہ خبرآ بھی جائے تو اللہ تعالی اسے ایسی فراست دے کہ جس سے وہ معلوم کر لے کہ یہ خبر صحیح نہیں ہے۔پس خلاصہ یہ کہ پرہیز گاری کی عادت ہو دراصل پر ہیز گاری یعنی بری چیزوں سے بچنا بنیاد ہے۔جب تک بری چیزوں سے بچا نہ جائے اچھی چیزیں حاصل نہیں ہوسکتیں۔جب تک بنیا د اچھی ریت اور پختہ روڑی پر نہ ہو مکان کھڑا نہیں رہ سکتا۔اگر کوئی شخص بنیاد میں گاؤں یا شہر کا گند یا کوڑا کرکٹ ڈال دے اور یہ سمجھے کہ اس کے اوپر وہ ایک پختہ عمارت کھڑی کر دے گا۔جو اس کے بیوی بچوں پر نہیں گرے گی اور ان کی ہلاکت کا باعث نہیں بنے گی۔وہ جاہل ہے اسی طرح جو شخص اپنی زندگی کی عمارت کی بنیاد میں پر ہیز گاری اور پاکیزگی اور طہارت کو نہیں رکھتا اور ان چیزوں پر جو مثبت قسم کے اثرات ہیں ان کی عمارت قائم نہیں کرتا اس کو ہر لمحہ اور ہر لحظہ ہلاکت کا انتظار کرنا چاہئے اور وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث نہیں بن سکتا۔ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی زندگی کی عمارت کو طہارت اور پاکیزگی کی بنیادوں پر قائم کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی عمارت بنائی جاتی ہے اور جو ہمارے لئے نمونہ ہوتی ہے اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔لمسجد اسس على التقوى من اول يوم احق ان تقوم فيه۔(التوبہ آیت نمبر ۱۰۸) یعنی اللہ تعالیٰ کا جو گھر تقویٰ کی بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔محمد رسول اللہ ﷺ کو اس میں کھڑے ہو کر قیادت کرنے کی اجازت ہے کیونکہ وہیں وہ مؤثر ہوسکتی ہے۔یہی حال ہمارے گھروں کا ہے ہمارے گھروں کی بنیاد بھی تقومی اور طہارت پر ہونی چاہیئے تا کہ ہم اور ہمارے بچوں کی تربیت ایسے رنگ میں ہو کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو ہم حاصل کرنے والے ہوں اور دین و دنیا کی برکات اور حسنات کے وارث بنیں۔اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو ایسا ہی بنائے۔اب میں دعا کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ اپنی رحمت کے سایہ میں رکھے اور اپنی حفاظت اور امان میں رکھے اور دشمن اور مخالفت کے ہر وار کو اپنی ڈھال پر روکے اور وہ آپ تک نہ پہنچ سکے اور آپ کو توفیق دے کہ آپ ظاہری اور باطنی پاکیزگی اور طہارت کے مالک ہوں۔اللہ تعالیٰ تو خالص طہارت کا سرچشمہ اور منبع ہے جو شخص گندا ہے اس سے وہ پیار نہیں کرسکتا۔خدا کرے کہ میں اور آپ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہمیشہ ہی پاک ٹھہریں اور پاکیزہ ہی