مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 242
د مشعل راه جلد دوم صفات نہیں پائی جاتیں۔الا ماشاء اللہ۔یہ بارہ صفات یہ ہیں۔فرموده ۱۹۷ء 242 ا۔اخلاق ،فاضله ۲ حلم ۳ کرم ۴- عفت، ۵۔تواضع، ۶۔انکسار، ۷۔خاکساری،۔ہمدردی مخلوق ، ۹۔پاک باطنی ۱۰۔اکل حلال، ۱۱۔صدق مقال ۱۲۔پر ہیز گاری کی صفت۔ویسے اگر دیکھا جائے تو انسان کی تمام قوتیں اگر اعتدال پر ہوں یا اعتدال پر آجائیں یا اعتدال پر لائی جائیں تو انسان کی جسمانی طاقت اور فطری قوت خلق بن جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس امر پر بڑی روشنی ڈالی ہے۔ہم خوش خلقی کو بھی بالعموم اخلاق کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔بعض طبائع میں چڑ چڑا پن ہوتا ہے۔بات کرتے ہیں تو چہرے پر بل پڑ جاتے ہیں۔ہشاش بشاش اور ہنس مکھ چہرے سے نہ وہ دوسروں سے ملتے ہیں نہ بات کرتے ہیں لیکن ایک خادم کو ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔کہنے کو تو تو یہ چھوٹی سی بات ہے لیکن اس کا اثر بڑا وسیع ہے۔اب میں نے افریقہ کا دورہ کیا۔ایک ایک وقت میں پانچ پانچ چھ چھ ہزار احمدیوں سے میں نے ملاقات کی۔ان سے مصافحے کئے۔ان سے باتیں کیں۔سیرالیون کے ایک افریقن دوست جو اس ملک کے احمدیوں کے پریذیڈنٹ ہیں اور جن کا نام چیف گومانگا ہے انہوں نے مجھے بتایا کہ مجھ سے ( یعنی گومانگا سے ) بیسیوں احمدیوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ ہم حیران ہیں کہ حضرت صاحب ہر شخص سے مسکرا کر ملتے ہیں۔حالانکہ مسکرانے پر نہ میرا وقت خرچ ہوا نہ پیسے خرچ ہوئے لیکن اس مسکراہٹ نے اپنا اثر کیا۔ویسے تو یہ ایک ہنگامی زندگی تھی۔اگر چہ جماعت احمدیہ قریباً اسی اکاسی سال سے قائم ہے اور افریقہ میں ہم قریباً پچاس سال سے کام کر رہے ہیں مگر جماعت کی تاریخ میں پہلی دفعہ اور ان کی زندگیوں میں یہ پہلا موقع تھا کہ مہدی معہود کا ایک خلیفہ وہاں جاتا اور اللہ تعالیٰ انہیں یہ موقع عطا کرتا کہ وہ اس سے ملیں، اس کی باتوں کو سنیں اس سے باتیں کریں، اسے اپنے دکھ درد سنائیں۔اس کی نصیحتیں سنیں۔اس سے برکت حاصل کریں۔میں تو ایک عاجز انسان ہوں لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمایا ہے کہ میں تیرے ماننے والوں کے لمس میں بھی برکت دوں گا اس واسطے بھی اللہ تعالیٰ کا یہ احسان جتا رہا ہوں کوئی فخر نہیں کر رہا۔بہر حال وہ بھی خوش تھے اور میں بھی بڑا خوش تھا۔حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب میں اس قسم کی لمبی ملاقاتوں کے بعد اپنے کمرے میں واپس آتا تھا تو میرے جبڑے مسکرا مسکرا کر دیکھ رہے ہوتے تھے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر میں مسکرا کر ان سے بات نہ کرتا۔تو ان کی روحانی طور پر سیری نہیں ہوئی تھی وہ بھی روحانی محبت سے بھرے ہوئے تھے اور میرا دل بھی روحانی محبت سے بھرا ہوا تھا۔وہاں کے دوستوں کے متعلق میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ مجھے شرم آ جاتی تھی میں تو سر جھکا لیتا تھا کہ مصافحہ کیا ہے کوئی بات نہیں کرنی مگر ہاتھ نہیں چھوڑ رہے اور میرا منہ دیکھے چلے جارہے ہیں چنانچہ کئی دفعہ پیچھے جو آدمی کھڑا ہے وہ پیچھے سے اگلے آدمی کو جھنجھوڑتا تھا کہ میں بے چین ہو رہا ہوں چلو آ گے۔مگر وہ اس بات کی بھی پر واہ نہیں کرتے تھے اور اس قسم کی محبت کے اظہار میں ہی مگن رہتے تھے۔ایسی روحانی محبت ان کو ملنی چاہیئے تھی اور میں