مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 182
فرموده ۱۹۶۹ء 182 د دمشعل کل راه جلد دوم گئے اور ناشکری کی راہوں کو تم نے اختیار کیا اور اب میں تمہیں دوسرا جلوہ جو میرے قہر اور غضب اور غصہ کا جلوہ ہے دکھاتا ہوں۔تم دنیا میں اگر کوئی چیز حاصل کر سکتے ہو جس کے نتیجہ میں خوش حالی اور آرام ملے تو وہ میری رضا اور میری مرضی کے بغیر حاصل نہیں کر سکتے۔اب میں تمہارے لئے یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ تم سے دنیا کی عزتیں دنیا کے اموال دنیا کی عقلیں اور وجاہتیں اور دنیا میں انسان کی۔۔۔زندگی بسر کرنے والے اخلاق اور دنیا میں ان راہوں کو اختیار کرنے کی طاقتیں جو خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والی ہیں یہ ساری چیزیں چھین لیتا ہوں اور اب تم جسمانی اور روحانی بھوک اور اس دنیا اور اُس دنیا کے خوف میں اپنی زندگی بسر کرو گے۔ہمیں یہ جلوہ بھی نظر آتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے جو انعامات تم پر کئے ہیں تم نے انعامات کی ناشکری نہیں کرنی۔جب تک تم شکر گزار بندے بنے رہو گے مزید نعمتیں اور مزید فضل تمہیں حاصل ہوتے رہیں گے۔اور بھی بہت سی آیات ہیں جو اس مفہوم کو ادا کرتی ہیں۔میں نے چند آیتیں لی ہیں اور یہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے یہ تمہید کے طور پر ہے اس کے نتیجہ میں ہماری ہر نسل پر جو عمر کے لحاظ سے بڑوں سے تعلق رکھتی ہے اور وہ بھی جو چھوٹوں سے تعلق رکھتی ہے۔مرد بھی اور عورتیں بھی اور ہم سب پر ہماری ہر نسل پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں بنیادی طور پر تو ایک ہی ذمہ داری ہے کہ جب اللہ تعالیٰ انسان پر فضل کرے اور اسے اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازے (اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہی فضل کرتا اور ہمیشہ ہی اپنی بے شمار نعمتوں سے اپنے عاجز بندوں کونو از تارہتا ہے ) تو اس کا یہ فرض ہے کہ ان نعمتوں کا صحیح استعمال کرے۔ان نعمتوں اور فضلوں میں سے ایک نعمت اور ایک فضل ہماری جسمانی ، بہنی، اخلاقی اور روحانی قوتیں ہیں پس جہاں تک ان قوتوں اور استعدادوں کا تعلق ہے۔ہے۔ہم پر یہ لازم آتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنتے ہوئے ایک تو ان کی صحیح نشو و نما کریں اور اس نشو ونما کو کمال تک پہنچائیں۔یعنی جتنی طاقت اور جتنی قوت اس نے ہمیں دی وہ جس حد تک اپنے کمال کو پہنچ سکتی ہے اس حد تک اسے پہنچا ئیں۔ہر ایک آدمی کا دائرہ استعداد علیحدہ علیحدہ ہے لیکن ہر فرد واحد کا جو دائرہ استعداد ہے اس کے اندر جن رفعتوں تک پہنچا اللہ تعالیٰ نے ممکن بنایا ہے ان رفعتوں تک وہ اپنی کوشش تدبیر اور دعا جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والی ہے کے ذریعہ پہنچے یہ ہمارا فرض ہے اور اس فرض کی طرف ہمیں متوجہ ہونا چاہیئے۔یہ فرض صرف بڑی نسل کا نہیں بلکہ یہ فرض ان پر بھی عائد ہوتا ہے۔جو نئے نئے احمدیت میں داخل ہوتے ہیں اور ان پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے جو احمدیت کے گھر میں پیدا ہوئے اور انہوں نے نئے سرے ( کیونکہ نئے افراد ہیں) سے اپنی جسمانی اور ذہنی اور اخلاقی اور روحانی قوتوں کی نشو و نما کرنی ہے اور اس نشو ونما کو اس کے کمال تک پہنچانا ہے۔اس تمہید کے بعد میں انشاء اللہ اللہ تعالیٰ مجھے زندگی اور توفیق دے اپنی آخری تقریر میں جب میں آپ سے مخاطب ہوں گا جو فرائض عائد ہوتے ہیں ان کی طرف بڑی وضاحت سے اور کھل کے توجہ دلانا چاہتا ہوں۔آپ