مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 168 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 168

د دمشعل با راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۹ء 168 دوائیاں اکٹھی کھالی جائیں تو ڈاکٹروں کا شور مچ جاتا ہے مثلا ایلو پیتھی کے ڈاکٹر تو بہت منع کرتے ہیں کہ کوئی اور دوا نہ کھانا ورنہ بیماری بگڑ جائے گی۔اور ہومیو پیتھی والے تو کہہ دیتے ہیں کہ اگر کوئی اور دوا کھانی ہے تو ہم نے علاج ہی نہیں کرنا، طب یونانی والوں کی اپنی عقل ہوگی۔لیکن ہماری گردنیں تو اللہ تعالیٰ نے نیچے جھکا دیں۔اس لئے ایک احمدی کو ساری دوائیں استعمال کر لینی چاہئیں۔تا کہ یہ خیال پیدا نہ ہو کہ Streptomycin ( سٹر پیٹو مائیسین ) نے مجھے فائدہ پہنچایا ہے۔یہ ہمیں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی ہمیں تو صرف اللہ تعالیٰ کا حکم فائدہ پہنچا سکتا ہے اور اگر اس کا حکم نہ ہو تو یہ ملک ہے۔اس ( سٹرپٹو مائیسین ) اور دوسری دوائیوں نے سینکڑوں ہزاروں کو مار دیا ہے۔بجائے اس کے کہ یہ بیماریوں کو دور کر دیں انہوں نے انسانوں ہی کی جان لے لی۔اور بعض دفعہ ایسی Injuries ( انجریز ) پہنچا دیتی ہیں بے چارہ بیمار نہ مردہ ہوتا ہے اور نہ زندہ ہوتا ہے۔وہ اس طرح دکھ، تکلیف میں ایڑیاں رگڑتے رگڑتے مرجاتا ہے اس کی حالت بڑی قابل رحم ہوتی ہے۔غرض ہمیں اس قسم کے مشرک نظر آتے ہیں جن کا دوا پر بھروسہ ہوتا ہے حالانکہ شانی مطلق تو خدا تعالیٰ ہے صرف وہی شفا دیتا ہے۔میں نے شاید یہ واقعہ پہلے بھی کئی بار بیان کیا ہے قادیان میں ایک نوجوان کے پیٹ میں رات دو بجے کے قریب اتنا شدید در داٹھا کہ اس نے چیچیں مار مار کر سارے محلے والوں کو جگا دیا۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے قریب ہی وہ رہا کرتا تھا۔یہ بھی گھبرا کر اٹھے کہ پتہ نہیں کیا واقعہ ہو گیا ہے چیخوں کی آوازیں آ رہی ہیں لوگ دوڑے چلے جارہے ہیں وہاں جا کر انہوں نے دیکھا کہ وہ نو جون ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہا تھا چیچنیں مار مار کے اس کا برا حال ہو گیا تھا۔خیر انہوں نے کسی آدمی کو بھیجا کہ جلدی جا کر ڈاکٹر کو بلا لائے۔لیکن چونکہ پتہ تھا کہ شفاء تو اللہ تعالیٰ نے دینی ہے ڈاکٹر بھی تو آخر دوا ہی دے گا۔کیوں نہ میں اس کی تسلی کے طور پر کہ کوئی نہ کوئی چیز مجھے خدا تعالیٰ کے سامانوں میں سے مل گئی ہے کوئی چیز دے دوں چنانچہ انہوں نے ایک طرف لیٹ کر جیب میں سے ایک کاغذ نکالا اس میں سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا پھاڑ ا۔اس کی گولی بنائی اور اس کے پاس آکر پانی منگوایا اور اسے کہا کہ منہ کھولو میں تمہیں دوائی دیتا ہوں۔اس نے یہ سمجھ کر کہ یہ کوئی دوائی ہے وہ گولی کھالی چنانچہ خدائے شافی نے چند منٹ کے اندر قبل اس کے کہ ڈاکٹر پہنچتا جسے لانے کے لئے آدمی دوڑائے گئے تھے اس کی درد دور ہوگئی لہذا چنیں بند ہو گئیں اور وہ آرام سے لیٹ گیا۔پس اسباب کی رعایت ضروری ہے کیونکہ اگر ہم ان کی رعایت نہ کریں تو ناشکری ہوتی ہے البتہ اسباب پر بھروسہ مہلک ہے۔کیونکہ اگر ہم اسباب پر بھروسہ کریں تو اس میں شرک پیدا ہوتا ہے۔غرض اسباب سے کام لینا چاہئے۔اور ان کی اپنی ذات میں بالکل روی چیز بھی نہیں چھنی چاہئے یعنی یہ تو سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں اس چیز کو حکم مل جائے گا تو ہمیں شفا مل جائے گی۔ہمارے بدن کی صحت ٹھیک ہو جائے گی۔لیکن یہ کہ ان اشیاء کی ذات کے اندر کوئی خوبی ہے۔ایسا ہر گز نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ اس قسم کی مثال غلط ہے۔گر ہمیں اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل ہو تو ہمیں یہ بھی معلوم ہو جائے کہ توحید کا ایک تقاضا ہے کہ جس طرح ہم اس کی