مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 156
فرموده ۱۹۶۹ء 156 د مشعل راه جلد دوم دد ہمارے ملک میں تو بڑی پابندی ہے امریکہ میں ہر کوئی پوسٹ آفس سے جا کر لائسنس حاصل کر کے ایک ایسا ٹرانسمیٹر بھی خرید سکتا ہے جس کے ذریعہ امریکہ میں بیٹھا ہوا ایک شخص افریقہ میں اپنے دوست سے باتیں کر سکتا ہے۔پہلے دوستی تھی کہ دو دوست آپس میں مل بیٹھتے تھے لیکن پھر انسان کے دماغ نے pen Friendship ( یعنی قلمی دوستی ) نکالی۔یعنی خط و کتابت کے ذریعہ دوستی قائم کرنا۔اس کا ایک عرصہ سے بڑا رواج چلا آ رہا ہے اب انہوں نے وائرلیس کے ذریعہ بھی دوستی کا ذریعہ نکالا ہے چنانچہ اس سلسلہ کا ایک لطیفہ ہے وہ بھی آپ کو میں سنا دیتا ہوں۔بعض تالے گھروں کے باہر خود بخود Lock ( یعنی مقفل ) ہو جاتے ہیں۔اندر سے کھل جاتے ہیں لیکن باہر سے جب تک چابی نہ لگائی جائے نہیں کھلتے۔ایک شخص کی بیوی کسی کام کے لئے اپنے ہمسائے کے گھر میں گئی مگر اپنے ساتھ دروازے کی چابی رکھنی بھول گئی۔دو چار منٹ کے بعد ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور دروازہ بند ہو گیا۔اب وہ دروازہ کھولنے کے لئے دستک دینے لگی مگر اندر اس کا خاوندا فریقہ کے کسی دوست سے وائرلیس پر محو گفتگو تھا وہ اس کی آواز سن ہی نہیں رہا تھا۔دو چار گھر چھوڑ کر اسی قسم کا ایک اور جنونی تھا اس کے گھر میں پہنچی اور کہنے گی کہ میرا خاوند اپنے دوست کے ساتھ وائرلیس پر مو گفتگو ہے۔دروازہ اندر سے بند ہے۔باہر سے بغیر چابی کے کھلتا نہیں۔سردی کا موسم ہے۔تم اسے وائرلیس پر یہ بتاؤ کہ تمہاری بیوی باہر کھڑی انتظار کر رہی ہے۔وہ اندر سے دروازہ کھولے۔پس اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے کانوں میں کچھ ایسی صوتی لہریں یعنی Reserve Frequencies پیدا کر دیتا ہے کہ ان کا ایک عام آدمی کو پتہ ہی نہیں ہوتا۔ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص کے کان میں ایک آواز آئے اور ساتھ جو آدمی کھڑا ہے اس کو آواز ہی نہ آئے اور یہ بتانے کے لئے اللہ تعالیٰ مختلف اوقات میں ایسا انتظام بھی کرتا ہے کہ جو آواز اوپر سے آتی ہے وہ ساتھ والے بھی سن لیتے ہیں۔ان کے کان کو بھی Reserve Frequencies Tume( ریزور فریکوئنسی ) اجازت دے دیتا ہے۔وہ تو ہے اور اجازت دے دی جاتی ہے کہ اچھا آج تم بھی سن لو۔پھر ان کو سمجھ آتی ہے کہ اس نے جو دس پندرہ باتیں سنائی تھیں واقعی اس کے کان میں آواز پڑی ہوگی۔انبیاء علیہم السلام ہزاروں کی تعداد میں باتیں سنتے اور آگے پہنچاتے ہیں۔بدظنی کرنے والے بدظنی کرتے ہیں۔اب ” کن فیکون“ ہے۔میں نے کل خطبہ میں بھی کچھ بیان کرنے کی کوشش کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں جو مادی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔یعنی جب خدا کا یہ حکم ہوتا ہے کہ یہ کلمہ اس قسم کی مادی شکل اختیار کرے تو ویسی ہی مادی شکل اختیار کر لیتا ہے اب یہ ایک فلسفہ ہے یہ بڑا گہرا فلسفہ ہے۔ہر ایک آدمی تو اس کو سمجھ بھی نہیں سکتا اور جو لوگ اس فلسفہ کو سمجھ سکتے ہیں ان کی باتوں پر بہت سارے لوگوں کو یقین بھی نہیں آسکتا۔پھر بعض دفعہ اللہ تعالیٰ ایسے نشان دکھاتا ہے کہ کن کا نظارہ سامنے آجاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حضور کا غذات پیش کر رہے ہیں۔یہ ایک کشفی نظارہ تھا۔منظوری دینے کے لئے قلم کو سرخی کے اندر یعنی ہولڈر ڈبو کے (انسان جس شکل میں سمجھ سکتا تھا وہی سامنے رکھی تھی ) آپ تو پین استعمال کرتے ہیں۔اس سے دستخط خراب ہو گئے ہیں۔پہلے ہولڈر سے کام