مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 157 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 157

157 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم کرنے والے کلرک لکھائی کے لحاظ سے اچھے ہوتے تھے وہ ا اپنا خط اچھا رکھتے تھے۔مگر اب Mass Production (ماس پروڈکشن) کے خط خراب ہو گئے ہیں۔بہر حال اس سرخ سیاہی والے ہولڈر کو چھینٹا دیا تو سرخی کے نشان آپ کے کپڑوں پر پڑ گئے۔اگر اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس کوئی اور آدمی بیٹھا ہوتا تو مخالفین کہتے کہ آپ نے یہ بات بنالی ہے لیکن خدا تعالیٰ نے ایک تو گواہ ساتھ بٹھا دیا اور جب قلم کو جھاڑا تو سرخی کے چھینٹے کپڑوں پر بھی گرے اور آپ کے پاس بیٹھے ہوئے آپ کے صحابی کے کپڑوں پر بھی گرے۔اس کے بعد ماننے والوں میں سے دو قسم کے دماغ ہونگے ایک تو وہ جس نے یہ نظارہ دیکھا۔اگر یہاں دنیا کے فلسفی دلائل دیں کہ ایسا نہیں ہوسکتا تو وہ کہے گا تم پاگل ہو میں پاس بیٹھا ہوا تھا۔میں نے یہ واقعہ خود دیکھا ہے۔دُنیا کا کوئی کیڑایا چھپکلی ایسی نہیں جس کا پیشاب سرخ رنگ کا ہو اور جو خون ہے اس کا بھی پتہ لگ جاتا ہے۔اب تو یہ بات مشکل ہی نہیں رہی کہ ہم خون اور سیاہی میں فرق نہ کر سکیں اور یہ اس صحابی کے لئے جس نے اپنی آنکھوں سے اس واقعہ کو رونما ہوتے دیکھا ایک قسم کی تسلی تھی اور یہ اس کے یقین کو پختہ کرنے کے لئے تھی۔اب اس کا ایمان تو کوئی بدل نہیں سکتا۔اسے کوئی دلیل اس بات کی قائل نہیں کر سکتی کہ یہ ایک ذہنی اختراع ہے۔یہ تو اس کا اپنا مشاہدہ ہے اس لئے وہی دلائل مشاہدہ کو منسوخ نہیں کر سکتے۔پس اگر ہمارے سامنے یورپ کے امریکہ کے اور چین کے اور روس اور فرانس کے فلسفی آ کر کہیں کہ اس قسم کی باتوں کو نہ مانو۔ہم انہیں کہیں گے۔تم پاگل ہو ہم نے تو اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا مشاہدہ کیا ہے اور بھی بہت سے رنگ میں مشاہدہ کیا ہے اور اس رنگ میں بھی مشاہدہ کیا ہے پس یہ بتانے کے لئے کہ میرے حکم سے یہ ساری دنیا بنتی ہے ایک یہ سرخ سیاہی کے چھینٹے پڑنے والا ) نظارہ دکھا دیا کہ دیکھو اس طرح بنتی ہے ”کن“ کا حکم ہوا تو اللہ تعالیٰ کا یہ جلوہ سرخ سیاہی کے رنگ میں نمودار ہو گیا اور اس کے نشان کپڑوں پر بھی ظاہر ہو گئے۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑا مختلف بنایا ہے بہت سارے احمدی اپنے اس مقام کو نہیں پہچانتے۔صوفیاء نے کہا ہے کہ جو آدمی اپنے نفس کو پہچان لیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیتا ہے۔یہ بات بڑی ہی بچی ہے لیکن اس کا اطلاق صرف اسی بندے پر ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے کسی نیک بندے کے ساتھ تعلق رکھتا ہو اور اس کے عقائد بھی اور اس کے اعمال بھی درست ہوں۔ویسے تو اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق سے پیار کرتا ہے لیکن پیار پیار میں بڑا فرق ہوتا ہے ایک پیار کا تعلق مثلاً ڈاکٹر کو اپنے مریض سے ہی ہوتا ہے وہ اس پیار سے بڑا مختلف ہوتا ہے جو ایک باپ کو اپنے بیٹے سے یا بھائی کو اپنی بہن سے ہے۔اس میں بہت فرق ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ایک قرب عام کا تعلق ہے جو اس کی ہر مخلوق سے ہوتا ہے۔میں نے بتایا تھا کہ قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ ایک قبر کا بھی قرب ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ جب کسی آدمی کو اصلاحی طور پر سزا دینا چاہتا ہے۔مثلاً خدام الاحمدیہ میں بھی یہ طریق یا ذریعہ اصلاح مشہور ہے۔یہ ذریعہ اصلاح بید مارنے کی شکل میں ہوتا ہے کبھی بوجھ اٹھانے کی شکل میں ہوتا ہے کبھی جھڑ کنے کی شکل میں ہوتا ہے کبھی