مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 149
149 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم پنے اندر پیدا کر سکتا ہے۔اور اگر آپ کے حسن اخلاق کو ہم اپنے اندر پیدا کر لیں تو ہمارے ماحول میں اس کا بڑی جلدی اثر ہوگا۔اور اس وقت وہ لوگ جو ہماری باتیں نہیں سنتے وہ ہماری باتیں سننے لگ جائیں گے۔یہ دُنیا اب ہمیں گالیاں دیتی ہے۔بعض افراد بھی شوخی دکھاتے ہیں۔اور جس وقت ان کی شوخی کا کسی احمدی پر اثر نہ ہو یعنی اپنی شوخی کا جو رد عمل دیکھنا چاہتے ہیں وہ رونما نہ ہو تو پھر وہ بڑے حیران ہو کر دوسرا اثر قبول کرتے ہیں۔گندہ دہن دشمن کے مقابل پر عمدہ نمونہ آپ طالب علم ہیں۔میں بھی طالب علم رہا ہوں اور اپنی طالب علمی کے زمانہ کا ایک واقعہ بتا دیتا ہوں۔میں ایک دفعہ لاہور سے قادیان کے لئے روانہ ہوا۔لاہور سے امرتسر تک میرے ڈبہ میں ایک بڑا ہی گندہ دہن شخص میرا ہم سفر تھا اس نے مجھے بے نقط سنانی شروع کر دیں اور میں مسکرا کر باتیں کرتا رہا۔میں مسکرا کر اسے جواب دیئے جاؤں اور وہ مجھے گالیاں دیئے جائے۔اتنے میں امرتسر کا اسٹیشن آ گیا اور میں اتر نے لگا تو اس سے رہانہ گیا اور کہنے لگا کہ اگر آپ کی طرح تبلیغ کی گئی تو آپ ہمیں بہت جلد اپنے ساتھ ملالیں گے۔میں آپ کو جان بوجھ کر گالیاں دے رہا تھا مگر آپ نے چہرے پر ذرا بھی ملال نہیں آنے دیا۔یہ تو مجھے اللہ تعالیٰ نے توفیق دے دی کہ میں اس کے ساتھ بڑے تحمل کے ساتھ باتیں کرتا رہا۔پس اگر ایسے آدمی بھی ملیں تو ان کے ساتھ بھی یہی سلوک ہونا چاہیے۔ایسے لوگ دراصل بیمار ہوتے ہیں کئی لوگ بیماری میں جب بے ہوش ہو جائیں یا ویسے بہک جائیں۔بعض دفعہ ایسا ہو جاتا ہے تو اپنے عزیز رشتے دار بھائی ہوں یا بیوی یا خاوند کے درمیان گلے شکوے ہوں وہ Burst کر کے پھر گالیاں دینی شروع کر دیتے ہیں ایسے سینکڑوں مریض آپ کو نظر آئیں گے۔ڈاکٹروں سے جا کر پوچھیں۔جس وقت وہ گالیاں دے رہے ہوں مثلاً بیوی خاوند کو گالی دے رہی ہو۔اسے غصہ تو نہیں آتا بلکہ منہ اسے اس پر رحم آ رہا ہوتا ہے کہ اس بیچاری کی کیا حالت ہو گئی ہے۔بھائی بھائی کو گالی دے رہا ہو تو اسے غصہ نہیں آئے گا یا بہن بھائی کو یا بھائی بہن کو گالی دے رہا ہو تو ایک دوسرے پر غصہ نہیں آئے گا ایسی بیماری کی بے ہوشی کی حالت میں تو غصہ نہیں آتا مثلاً ایسی حالت میں انسان دوسری Extreme ( یعنی انتہاء) پر چلا جاتا ہے اسے دماغ پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔پس ایسے شخص کو دیکھ کر ہمارے دل میں اس کے لئے رحم پیدا ہونا چاہیے۔اس مادی جسم کی بیماری میں مبتلا انسان کو اتنا نقصان نہیں جتنا روحانی بیماری کا نقصان ہوتا ہے کیونکہ جسمانی طور پر مریض کے متعلق زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ ایک زندگی ختم ہوئی دوسری شروع ہو جائے گی۔لیکن جو روحانی مرض ہے اس کا انسان پر بہت برا اثر پڑتا ہے پتہ نہیں ایسا مریض کتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کے قہر کے نیچے رہتا ہے۔(اللہ محفوظ رکھے ) ایسے بیمار شخص پر بہت رحم کرنا چاہیئے اور جب دل میں کسی کے لئے رحم پیدا ہوگا تو پھر دل میں غصہ پیدا نہیں ہوگا کیونکہ دل کے سارے خانوں کوتو رحم نے پر کر دیا ہے۔اس طرح غصہ کے لئے کوئی خانہ باقی ہی نہیں رہتا۔اگر دوسرے اس قسم کی باتیں کریں اور اس کے مقابلے میں آپ اپنے خلق کا مظاہرہ دکھا ئیں اور ایسے شخص پر رحم کریں۔اسے