مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 148 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 148

و مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۹ء 148 طرح انبیاء علیهم السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ (البقر ۲۵۴:۵) اسی طرح آپ کے جو معجزات اصولی طور پر مختلف اقسام کے ہیں ان کے متعلق بھی اصولی طور پر یہی ہے کہ ان میں سے بعض بعض سے اپنی تاثیرات کے لحاظ سے بڑھ کر ہیں اور آپ کا یہ حسن اخلاق کا معجزہ سب سے بڑا معجزہ ہے۔آپ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کر کے آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ بنی نوع انسان میں ایک ایسا پاک ترین وجود پیدا ہوا جو اخلاق کا مجسمہ تھا۔مکہ والوں نے اڑھائی سال تک آپ کو اور آپ کے دوسرے ساتھیوں کو شعب ابی طالب میں بھوکا مارا۔میں نے ایک دفعہ یہیں مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد بتایا تھا کہ ان کی بھوک کی یہ حالت تھی درختوں کے پتے حتیٰ کہ کوئی گری پڑی نرم خو چیز اٹھا کر کھا لیتے۔چنانچہ ایک بڑے ہی بزرگ صحابی نے بعد میں کسی کو بتایا ( حدیث میں یا تاریخ میں آیا ہے ) کہ اس زمانے میں ہماری یہ حالت تھی کہ ایک دفعہ رات کے اندھیرے میں ایک چیز پر میرا پاؤں پڑا اور میرے پاؤں نے یہ محسوس کیا کہ یہ کوئی نرم چیز ہے۔( کیونکہ پاؤں پڑتا ہے تو آدمی محسوس کرتا ہے کہ سخت کنکر آ گیا ہے یا پاؤں کے نیچے نرم مٹی ہے یا کوئی نرم چیز ہے ) اسی طرح کی کوئی نرم چیز تھی۔جس پر ان کا پاؤں پڑا۔اس وقت ان کی بھوک کی حالت یہ تھی کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس چیز کو اٹھایا اور کھا گیا اور مجھے اب تک پتہ نہیں کہ وہ چیز کیا تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدنی زندگی میں جب مکہ میں قحط ڈالا اور ان کفار کے فتنہ وفساد کی وجہ سے جو حالت حضرت نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی شعب ابی طالب میں ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے وہی حالت قریش مکہ کے سرداروں کی کر دی۔بھوکوں مرنے لگے تو فوراً حضرت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لکھا۔چنانچہ آپ نے ان کے کھانے کا انتظام فرمایا۔کفار مکہ نے آپ کے لئے بھوک کا انتظام کیا تھا مگر آپ نے ان کے لئے کھانے کا انتظام فرمایا۔پس آپ کی حیات مبارکہ میں حسن اخلاق کے اتنے حسین مظاہرے نظر آتے ہیں کہ انسان اس حسن کو دیکھ کر خود بخود آپ کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ایک مرض عام طور پر ہمارے احمدیوں میں خدا کے فضل سے کم ہے ) لیکن دوسروں میں بہت زیادہ ہے کہ جب ان سے بات کی جائے تو بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم ﷺ کی بہت بلندشان تھی ہم آپ کی تقلید کیسے کر سکتے ہیں۔آخر کیوں تقلید اور پیروی نہیں کر سکتے اللہ تعالیٰ نے تو قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ آپ گولوگوں کے لئے اسوہ حسنہ بنایا گیا ہے۔پس اگر حضرت نبی اکرم عملے کے اخلاق نے اسوہ نہیں بنا تھا تو وہ اپنی جگہ پر قائم رہتے تاریخ میں ان کے اظہار کی یا ان کے محفوظ کر لینے کی ضرورت ہی کیا تھی۔یہ صحیح ہے کہ آپ کا انتنا ارفع اور اعلیٰ مقام ہے کہ ہم وہاں تک نہیں پہنچ سکتے اور یہ بھی صحیح ہے کہ ہر شخص نے اپنی اپنی استعداد کے مطابق رفعتوں کو حاصل کرنا ہے نپس اپنے دائرہ استعداد کے اندر ہر شخص آپ کے اسوہ حسنہ یعنی آپ کے اخلاق فاضلہ صلى الله الله