مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 12
دومشعل قل راه جلد دوم صفت رحمانیت کے نظارے فرموده ۱۹۶۶ء 12 غرض اس چھوٹی سی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بڑے ہی لطیف اور وسیع مضمون کی طرف متوجہ کیا ہے اور اس نے ہمیں بتایا ہے کہ اپنا ہر کام شروع کرنے سے پہلے میری دوصفات کو یا درکھا کرو۔اور ان کا واسطہ دے کر اخلاص سے یہ دعا مانگا کرو۔کہ جو کام ہم شروع کرنے لگے ہیں۔اس میں اس کی برکت ہمارے شامل حال ہو اور ہمارے لئے اس کا نتیجہ اچھا نکلے۔ان دو صفات میں سے ایک صفت رحمانیت کی ہے۔جس کے بغیر ہم کوئی کام بھی کرنے کے قابل نہیں۔ہم دنیا میں کسی کام میں بھی اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔جب تک کہ خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت اپنے تمام جلووں کے ساتھ ہمارے شامل حال نہ ہو۔دیکھیں آپ تمام طالب علم جو یہاں بیٹھے ہیں۔اور خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے زیر اہتمام جاری کی ہوئی تربیتی کلاس میں حصہ لینے آئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی پیدائش سے پہلے جو فضل اور احسان آپ پر کئے ہیں انہیں آپ چھوڑ بھی دیں۔آپ کی اپنی ذات پر بھی خدا تعالیٰ نے ان گنت اور بے شمار احسان اور انعام کئے ہیں۔اور یہ ان گنت اور بے شمار احسانات اور انعامات آپ کے کسی عمل کا نتیجہ نہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔ہماری زندگیوں کا ہر لمحہ اس طرح گزر رہا ہے کہ ہمارے جسم کے مختلف نظام جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں۔ہزاروں خطرات میں سے گزر رہے ہیں۔اور ہمارے جسم کی کوئی ایک کل بھی خراب ہو جائے تو بعض اوقات فوری طور پر موت وارد ہو جاتی ہے۔مثلاً سائنس نے یہ معلوم کیا ہے کہ جس وقت ہمارا دماغ ہمارے جسم کے مختلف اعضاء کو احکام بھیج رہا ہوتا ہے اس وقت بجلی کی ایک رو پیدا ہوتی ہے جو ان پیغامات کو ان اعضاء تک لے جاتی ہے جنہیں وہ پیغامات پہنچاتے ہیں۔مثلاً یہ میرا ہاتھ ہے۔میری انگلیاں بند ہیں۔اب جس وقت میرا دماغ میری ایک انگلی کو حکم دے گا کہ یوں کھل جا۔تو دماغ سے بجلی کی ایک رو چلے گی جو دماغ کے اس حکم کو اس انگلی تک پہنچا دے گی۔اور جن ذرائع سے دماغ کے احکامات جسم کے مختلف اعضاء تک پہنچتے ہیں۔انہیں نروز (Nerves) یعنی اعصاب کہتے ہیں۔نرو یعنی عصب کوئی لمبی اور مسلسل چیز نہیں جیسے ایک ریل پر لپٹا ہوا دھاگہ ہوتا ہے بلکہ چھوٹے چھوٹے دھاگوں کی مانندٹکڑے ہیں۔جو جسم کے سارے حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہر دوٹکڑوں میں کچھ فاصلہ ہوتا ہے۔جس وقت (Nerves) نروز کام نہ کر رہی ہوں۔اس وقت یہ فاصلہ قائم رہتا ہے۔گو یہ فاصلہ ایک انچ کے کروڑویں حصہ کے برابر ہی ہو۔بہر حال دونونروز ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں۔اب مثلاً جب دماغ کسی انگلی کو حکم دیتا ہے کہ یوں کھل جا۔تو یہ حکم نرو کے ایک ٹکڑے تک پہنچتا ہے۔دوسرا ٹکڑا اس سے جدا ہوتا ہے اور رستہ رک جاتا ہے اور ان دونوں ٹکڑوں پر کوئی پل بھی نہیں۔لیکن اللہ تعالی وقتی طور پر دونوں ٹکڑوں کے درمیانی فاصلہ پر پل بنادیتا ہے۔یہ پل کیمیاوی قسم کا ہوتا ہے جو ان دونوں ٹکڑوں کو ملا دیتا ہے پھر جب دماغ کا حکم دوسرے ٹکڑے سے تیسرے ٹکڑے تک پہنچتا ہے تو اس کے اور چوتھے ٹکڑے کے درمیانی فاصلہ پر ایک اور پل فوراً تیار ہو جاتا ہے اس طرح سینکڑوں اور ہزاروں پل تیار ہوتے جاتے ہیں۔اور بالآخر