مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 112 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 112

فرموده ۱۹۶۸ء 112 د دمشعل مل راه جلد دوم ساز وسامان اور اسباب ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیوی ساز و سامان اور اموال ہمارے پاس نہیں۔اس کے باوجود میں آپ سے کہتا ہوں کہ اس لحاظ سے بھی آپ کو القوی بننا چاہیئے۔اور وہ اس طرح کہ وہ مال جو طیب راہوں سے کمایا جائے۔اور پسندیدہ اور حمید راہوں پر خرچ کیا جائے۔وہ اس مال سے کہیں زیادہ اچھے نتائج نکالتا ہے جو حرام راہوں سے کمایا جائے اور ان راہوں پر خرچ کیا جائے جو اللہ کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہوں اس لئے ہر احمدی نوجوان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ اس کے پاس حلال اور طیب مال ہو اور جن راہوں پر وہ خرچ کیا جائے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہوں۔قرآن کریم نے ہمیں بڑی عجیب چیز بتائی ہے اور وہ یہ کہ اس نے مومن کو صرف صالح نہیں کہا بلکہ هُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ (الحج : ۲۵ ) بھی کہا ہے۔پس مال جو طیب اور حلال ہوا سے ایسے راہوں پر خرچ کرو جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پسندیدہ ہیں اور اس کے لئے دعا کی بڑی ضرورت ہے کیونکہ انسان بڑا کمزور ہے اور اس کا علم بڑا ناقص ہے۔وہ یہ فیصلہ ہی نہیں کر سکتا کہ وہ کونسی راہ ہے جو میرے رب کے نزدیک پسندیدہ ہے۔اس لئے اسے یہ دعا کرنی چاہیئے کہ اے خدا تو میری مدد کو آ۔تو مجھے وہ راہیں دکھا جن پر چل کر میں حلال اور طیب مال جمع کر سکوں اور مجھے وہ راستہ دکھا جو تیرے نزدیک پسندیدہ ہو اور جس پر میں خرچ کرسکوں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ مال جو میرے بتائے ہوئے طریق پر جمع کیا جاتا ہے اور جو میرے بتائے ہوئے طریق پر خرچ کیا جاتا ہے اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے انسان القوی بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقَوَّةِ الْمَتِينُ۔(الذاریات آیت ۵۹) یعنی اللہ تعالیٰ ہی رزق کا منبع اور سرچشمہ ہے اور جو رزق اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں سے حاصل کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ راہوں پر خرچ کیا جائے وہ انسان کے اندر قوت پیدا کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ رزاق ہونے کے ساتھ ساتھ ذوالقوۃ المتین بھی ہے۔یہاں فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ رزاق ہے اور ذوالقوۃ ہے اور ہمیں بتایا ہے کہ وہ رزق جو حلال اور طیب ہو یعنی اس کے حاصل کرنے میں خدا تعالیٰ کے تقویٰ سے کام لیا گیا ہو اور جس کے خرچ کرنے میں اللہ تعالیٰ کے تقویٰ سے کام لیا گیا ہو وہ چاہے تھوڑا ہو اس کے نتیجہ میں انسان خدائے ذوالقوة کی قوتوں اور طاقتوں کے جلوے دیکھتا ہے۔اور جس وقت انسان خدا تعالیٰ کی قوت اور قدرت کے جلوے دیکھتا ہے تو وہ خارجی اسباب کے لحاظ سے القوی بن جاتا ہے۔دیکھو بدر کے میدان میں کچھ ظاہری سامان تو استعمال کئے گئے تھے لیکن دنیوی لحاظ سے ان کی کوئی وقعت نہیں تھی۔اگر وہ سامان ایسے ہاتھوں میں نہ ہوتے جو تمثیلی زبان میں اللہ کے ہاتھ تھے تو اس تھوڑے اور معمولی سامان سے اس قوت کا مظاہرہ نہ ہوتا جو بدر کے میدان میں ہوا۔غرض خارجی سامان اور خارجی اسباب تھوڑے ہونے کے باوجود اس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ جن کے نتیجہ