مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 97
97 فرموده ۱۹۶۸ء دومشعل راه جلد دوم خطبه جمعه فرموده ۱۸ ۱۷ کتوبر ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک ربوه سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی: ولا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا الهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ ، سَيُطَوَتُونَ مَا يَخِلُوابِه يَوْمَ الْقِيمَةِ وَلِلَّهِ مِيرَاتُ السموتِ وَالأَرْضِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرات لقد سمع الله قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللهَ فَقِيرُ ونَحْنُ أَغْنِيَاءُ (آل عمران آیات ۱۸۱ ۱۸۲) يَايُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاء إلى اللهِ وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ إن يَشَا يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيد ومَا ذَلِكَ عَلَى اللهِ بِعَزِيزِك اس کے بعد فرمایا:- (فاطر آیات ۱۶ تا ۱۸) اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں سب کچھ دیتا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی اس دین میں سے مالی قربانیاں پیش نہیں کرتے بلکہ بخل سے کام لیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا اپنے اموال کو خدا کی راہ میں خرچ نہ کرنا نیوی فوائد پر منتج ہوگا اور اسی میں ان کی بھلائی ہے۔اگر وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کریں گے تو انہیں نقصان ہو گا۔ان کا خدا کی راہ میں اموال خرچ کرنا ان کیلئے خیر کا موجب نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ خیال درست نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ (شرلهم) ایسا کرنا ان کیلئے بہتر نہیں بلکہ ان کیلئے ہلاکت اور برائی کا باعث بنے گا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو وہ مول لینے والے ہوں گے۔اس بخل کے دو قسم کے نتائج نکلیں گے۔ایک اس دنیا میں اور ایک اُس دنیا میں۔خدا کی راہ میں خرچ کرنے میں بخل جو شخص بخل سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ نہیں کرتا وہ اس دنیا میں جہنم میں پھینکا جائے گا اور وہاں اسے ایک نشان دیا جائے گا جس سے سارے جہنمی سمجھ لیں