مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 84 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 84

84 باب هشتم قدیم کشمیر کے لٹریچر میں مسیح کی آمد، دعوی نبوت اور وفات کا ذکر مذکورہ قرآنی بیانات کی تائید قدیم کشمیر کی تاریخوں اور مذہبی کتب سے بھی ہوتی ہے جن میں واضح طور پر لکھا ہے کہ حضرت مسیح پیغمبر بنی اسرائیل جن کا ایک نام یوز آسف بھی تھا، فلسطین سے کشمیر کی طرف مرفوع ہوئے۔انہوں نے دعویٰ نبوت کیا اور اپنے آپ کو اہل کشمیر کیلئے پیغمبر قرار دیا کہ وہ انکے لئے خدا کے حکم سے پیغمبر مبعوث کئے گئے ہیں۔انہوں نے بقیہ عمر یہیں بسر کی اور بالآخر فوت ہو کر محلہ انز مرہ (سرینگر متصل خانیار ) دفن ہوئے اور انکے مقبرہ سے انوار نبوت جلوہ گر ہیں۔چنانچہ ایک قدیم فارسی تاریخ ( قلمی ) جو آج سے پانچ سوسال قبل بدشاہ والی کشمیر کے عہد میں ایک مسلمان محقق نے قلمبند کی، اس کا قلمی نسخہ غلام محی الدین صاحب وانچو ( سرینگر ) کے پاس اس وقت موجود تھا۔جبکہ 1947 ء سے قبل خواجہ نذیر احمد مصنف ”جیز زان ہیون آن ارتھ نے اسے دیکھا تھا اور اسکی زیر نظر عبارت کا عکس لیا تھا۔اسکے شروع کے اور اق شکستہ ہونے کی وجہ سے مصنف کا پتہ نہیں چل سکا، مگر مؤرخین کا اندازہ ہے کہ یہ ملا نادری کی تصنیف ہے جس کی تاریخ کشمیر میں بڑی اہمیت ہے۔مگر عرصہ دراز سے یہ گم چلی آرہی تھی۔مصنف اس تاریخ میں راجہ گو پادت کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔راجـه گوپانند پسرش بعد از عزل اوبر حکومت رسید و در عهد حکومت اور بتخانه هائے بسیار(تعمیر شدند)بالائے کوہ سلیمان گنبد شکسته بوده برائے تعمیرش یکی از وزرائے خود نامی سلیمان که از پارس آمده بود تعیین نمود۔هندوؤاں اعتراض کردند که او غیر دین ملیچه است۔دریں وقت حضرت یوز آسف از بیت المقدس بجانب وادئ اقدس مرفوع شده دعوائے پیغمبر کرد۔شب و روز عبادت باری تعالیٰ کرد در تقوی پارسائی بدرجه اعلی رسیده خود را بسالت اهل کشمیر مبعوث گماریـه و مـدعـوت خلائق اشتغال نمود زیر اکه کشمیر مردمان خطه عقیدت مند آنحضرت بودند۔راجه گوپانند اعتراض هندوؤاں پیش او کرد۔بحکم آنحضرت