مسیح کشمیر میں — Page 65
65 یسوع مسیح ہمیشہ کیلئے ہجرت کے ذریعہ ان سے جدا ہو گیا۔جسے انہوں نے اپنے لئے مسیح کی موت سے تعبیر کیا۔اگر یہ موت حقیقی ہوتی تو یسعیاہ باب 53 اور حز قیل باب 34 و 37 کی پیشگوئیاں مسیح پر ہرگز چسپاں نہیں ہوسکتیں اور وہ جھوٹی ٹھہرتی ہیں کیونکہ اس صورت میں مسیح کو کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس خود جانے اور اپنی نسل دیکھنے کا موقع نہیں ملتا۔حالانکہ مسیح کا خود گمشدہ بھیڑوں کو تلاش کر کے انہیں پیغام حق پہنچانا اور شادی کرنا اور اس سے نسل پیدا ہونا اور اس نسل کو اس کا دیکھنا ان پیشگوئیوں کی رُو سے ضروری تھا۔پیشگوئیاں برحق ہیں اور مسیح کی موت کے متعلق اوپر کا بیان محض ایک استعارہ اور تمثیل ہے نہ کہ اصل حقیقت۔اسکی وجہ یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ خط لکھنے والے کا یہ خیال تھا کہ اس خط کا علم اگر کسی یہودی کو ہو بھی جائے تب بھی اسکو مسیح کی ہجرت کا پتہ نہ لگے۔تا کہ انکی تلاش میں یہ خط مددگار نہ ہو سکے۔بحیرہ مردار کے غاروں کے صحیفے آثار قدیمہ کی ان تازہ شہادتوں میں سے جن سے مسیح سے متعلق قرآنی بیانات کی تائید ہوتی ہے، بحیرہ مردار کے غاروں سے برآمد شد وہ صحیفے بھی ہیں جو 1947 ء سے آج تک برآمد ہوئے ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ 1947ء میں ایک بدو بحیرہ مردار کے مغربی ساحل پر وادی قمران کی چٹانوں میں اپنی بکری کی تلاش میں پھر رہا تھا۔اس اثناء میں اسکی نظر ایک تنگ غار پر پڑی اس نے اپنے اطمینان کیلئے ایک پتھر اندر پھینکا تو اسے محسوس ہوا کہ وہ کسی برتن سے ٹکرایا ہے۔دوسرے دن وہ اپنے ایک اور ساتھی کی مدد سے اس غار میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ قطاروں میں بڑے بڑے مرتبان پڑے ہیں۔اس نے انہیں کھولا تو ان میں دو ہزار سال کے پرانے صحیفے تھے۔جب ان صحیفوں کی شہرت ہوئی تو یہ جلد ہی دنیا کے قابل ترین محققین کے سامنے آئے۔جنہوں نے نہایت عرق ریزی، جانفشانی اور حد درجہ احتیاط کے ساتھ ان سالم و بوسیدہ اوراق کو صاف کر کے مطالعہ کے قابل بنایا اور ان پر تحقیقات کیں اور اپنی تحقیقات کے نتائج اور ان صحائف کو پڑھوا کر انکا ترجمہ شائع کر دیا اور بین الاقوامی ماہرین آثار قدیمہ کے محققین ابھی تک تحقیقات کر رہے ہیں۔ان قدیم صحائف کے مضامین پر مشتمل تفصیلات ” ڈیڈسی سکرولز“ کے نام سے شائع کی گئی ہیں۔ماہرین آثار قدیمہ کی رائے ہے کہ ان صحائف کو مرتب کرنے والے پہلی عیسوی کے وہ عیسائی ہیں جو یہودیوں کی ایذاء رسانیوں سے ایک حد تک محفوظ رہنے کیلئے وادی قمران کے ان غاروں میں آکر پناہ گزین ہو گئے اور انہوں نے اپنے بال بچوں سمیت یہیں رہائش اختیار کر لی تھی۔جہاں وہ اپنی