مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 57 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 57

57 ذکر ان الفاظ میں پایا جاتا ہے۔پھر ان پارچات پر ادویہ اور مرہم لگا کر انکو یسوع کے بدن کے گرد لپیٹ دیا اور لوگوں میں یہ ظاہر کیا کہ مصالحہ اس لئے لگایا گیا ہے کہ اس کا جسم عید کے بعد تک مرجھانے اور ضائع ہونے سے بچار ہے پھر عید کے بعد اسکی لاش کو مصالحہ لگایا جائے گا۔یہی چادر جو کستانی کپڑے کی تھی ” مقدس کفن کے نام سے عیسائیوں کے تبرکات میں دو ہزار سال سے آج تک محفوظ چلی آرہی ہے۔حضرت مسیح جب عارضی بیہوشی کے بعد ہوش میں آکر اس قبر سے ایسینی فرقہ کے احباب کے ذریعہ پاس کی کسی محفوظ مخفی جگہ پر اٹھا کر لیجائے گئے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس چادر کو بھی محفوظ کیا گیا۔یہ کتانی چادر جو چودہ فٹ لمبی ہے دو ہزار سال سے زیر بحث چلی آرہی ہے۔ٹاسی فورس کیکسٹیس نے عیسائی مذہب اور گر جا کی تاریخ “ نامی کتاب میں لکھا ہے کہ ملکہ پیچیر یا ( PULCHERIA) نے 436ء میں قسطنطنیہ میں ایک عبادت خانہ جس کا نام سینٹ میری آف پیچیر مینا تھا بنوایا تھا اور اس میں مسیح کے کفن کو ( جو انہی دنوں دوبارہ دریافت ہوا تھا) بحفاظت رکھوایا۔یہ کفن 1204 ء تک وہیں تھا۔عیسائیوں کی تاریخوں اور کلیسیا سے متعلق کتب سے پتہ چلتا ہے ہر جمعہ اسکی زیارت کروائی جاتی تھی۔ایک فرانسیسی بشپ آرکلپس سے یہ بیان منسوب ہے کہ وہ 640ء میں یروشلم کی زیارت کو گیا، وہاں اسے مقدس کفن دیکھنے کا موقع ملا۔اس سے پتہ چلتا ہے ساتویں صدی مسیحی میں یہ کپڑا یروشلم میں موجود تھا بعد میں قسطنطنیہ لایا گیا۔جب صلیبی جنگجو چوتھی صلیبی جنگ میں فتح مند ہو کر قسطنطنیہ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک راہب خانہ سینٹ میری آف پیچیر نس میں حضرت مسیح کا کفن رکھا ہوا تھا۔رابرٹ ڈوکلیری جس نے چوتھی صلیبی جنگ کے حالات لکھے ہیں، لکھتا ہے کہ اس کپڑے پر ہمارے آقا مسیح کی شبیہ مبارک کے نقش نظر آتے تھے۔جب شہر پر دشمن کا قبضہ ہو گیا تو افراتفری پھیلنے کی وجہ سے کچھ علم نہ ہو سکا کہ مقدس کفن کہاں گیا۔پھر آرچ بشپ بیسا نکاں کے پاس یہ کفن پانس ڈولا راشے کے ذریعہ پہنچا۔اسے سینٹ ای۔این کے گر جا میں رکھا گیا جہاں یہ کفن 1349 ء تک احترام کے ساتھ رکھا رہا۔1349ء میں یہ گر جا آگ لگنے سے تباہ ہو گیا۔اس موقع پر یہ کفن چوری کر لیا گیا اور آٹھ سال بعد 1357ء میں پھر ظا ہر ہوا اور فلپ ششم واقعہ صلیب کی چشم دید شہادت صفحہ 26