مسیح کشمیر میں — Page 47
47 گویا ابتدائی عیسائی بھی مسیح کے آسمان پر جانے کے قائل نہ تھے بلکہ کسی جگہ زمین پر انکی ہجرت کے ہی قائل تھے۔مسٹر بروس انیسویں صدی کے اواخر میں عیسائی مذہب کے بہت بڑے مصنف گزرے ہیں وہ لکھتے ہیں۔مسیح فی الواقعہ مرے نہیں تھے ، عارضی بیہوشی کے بعد وہ پھر ہوش میں آگئے تھے اور 66 کئی مرتبہ اپنے شاگردوں کو زندہ نظر آئے پھر وہ اتنا عرصہ زندہ رہے کہ پولوس کو بھی انکی زیارت نصیب ہوئی اور بالآخر انہوں نے کسی نا معلوم مقام پر وفات پائی۔“ (اپالوگویٹر مطبوعہ 1892ء) مغربی محققین میں سے جو مذہبی تعصب نہیں رکھتے انہوں نے کھلے لفظوں میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح کا کشمیر میں آنا ایک تاریخی واقعہ ہے۔حج ڈاکٹر ایم۔اے ایک مسیحی مصنف لکھتے ہیں: یہ ہو سکتا ہے کہ بنی اسرائیل کے دس گمشدہ قبائل کو تبلیغ کر کے مسیح سرینگر (کشمیر) کے دور دراز علاقہ میں فوت ہو گیا ہو اور وہ اس قبر میں دفن ہے جو اس کے نام سے مشہور ہے۔اگر مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوا“ کپتان سی ایم انرک لکھتے ہیں : (صفحہ 71 بحوالہ وئیر ڈوجیز ز ڈائی) ” مجھے اپنے قیام کشمیر کے دوران میں وہاں کی قبروں کے متعلق چند عجیب باتیں معلوم ہوئیں ان میں سے ایک قبر کو مسیح ناصری کی قبر کہتے ہیں۔“ یسوع کی نا معلوم زندگی کے حالات ( خدا کی سلطنت صفحہ 97 مطبوعہ 1915ء) 1878ء 1887ء میں ایک روسی سیاح مسٹر نکولس نوٹو وچ نے کشمیر اور تبت کا سفر کیا تھا۔اس نے بدھوں کے قدیم مقدس مقام واقعہ لیہ (الداخ) سے یسوع مسیح کے حالات کو " Unknown Life of Jesus “ کے نام سے شائع کیا۔اس کتاب کا اردو ترجمہ 1899ء میں لالہ جے چند سابق آریہ منتری پر تی ندی سبھا ( پنجاب ) نے مطبع ست دھرم پر چارک جالندھر (بھارت) سے شائع کیا۔تکولس موصوف نے اس کتاب میں عیسائی دنیا میں اغلبا پہلی دفعہ یسوع مسیح کی نامعلوم زندگی کے حالات“ کو شائع کیا۔جس پر متعصب عیسائی حلقوں میں نکولس کے سفر کے متعلق چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں