مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 26 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 26

26 آپ کو شہزادہ نبی کہا گیا ہے۔" چبوتروں " کا یوز آسف کے نام سے مشہور ہونے سے پتا چلتا ہے کہ آپ نے ان مقامات پر وعظ کیا یا کچھ کچھ عرصہ قیام کر کے اہل افغان تک خدا کا پیغام پہنچایا ہوگا کیونکہ مؤرخین بالاتفاق انہیں بنی اسرائیل لکھتے ہیں اور خود افغانوں کا دعوی بھی یہی ہے بلکہ برطانوی عہد میں جب ہندوؤں اور انگریزوں نے پٹھانوں کو اپنے ساتھ ملانے کیلئے آریہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی تو افغانی اور پٹھان مؤرخین نے کھل کر اسکی تردید کر دی اور واضح کیا کہ وہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد سے یعنی بنی اسرائیل سے ہیں۔عیسائی لٹریچر سے پتہ چلتا ہے کہ تو ما حواری ارض قندھار و کابل میں بھی گئے اور پھر ٹیکسلا میں آکر جنوبی ہند (مدراس) میں چلے گئے جہاں وہ تبلیغ کرتے ہوئے کافروں کے ہاتھ سے شہید ہو گئے۔( دیکھو کلیسائے ہند کی تاریخیں جو عیسائیوں نے شائع کرائی ہیں) مسیح و تھو ما حواری کی ٹیکسلا میں آمد پادری برکت اللہ ایم۔اے نے تاریخ کلیسائے ہند اور دیگر عیسائی مؤرخین نے تھو ما حواری کے ٹیکسلا میں آمد اور وہاں مسیح کی ان سے ملاقات کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ٹیکسلا کے حکمران گونڈ وفرس ( عہد حکومت 19 تا 50ء) نے حبان نامی ایک شخص کو نصیبین کے بادشاہ کے پاس اس غرض سے بھیجا کہ وہ کسی ایسے معمار کو بھیج دے جو ٹیکسلا میں روم کے محلات کی طرز پر ایک محل تیار کر دے جب وہ وہ نصیبین کے بادشاہ کے پاس یہ عرضداشت لے کر پہنچا اس وقت مسیح نے تو ما کو جان کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ ٹیکسلا میں بادشاہ کا محل تیار کرے۔( مگر اس جگہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب مسیح اس وقت بادشاہ کے کسی عارضہ کا علاج کر رہے تھے اور بعض روایات کے مطابق تبلیغ کر رہے تھے تو مسیح نے تھوما کو حبان کے ساتھ بھیجنے کی سفارش کی ہوگی اور بادشاہ نے اسے منظور کیا ہوگا۔جس پر جبان تھوما کو اپنے ساتھ ٹیکسلا میں لایا اور اس نے چھ ماہ میں محل بنایا ) پھر عیسائی مؤرخین لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ تھو ما حواری گنڈ وفارس کی مملکت میں قیام رکھتے تھے تو حضرت مسیح انکے پاس آئے اور انہیں مشرقی جانب تبلیغ کی غرض سے روانہ کیا اور انہیں برکت کی دعا بھی دی اس جگہ عیسائی مؤرخین یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسیح کی یہ ملاقات تھو ما حواری سے کشفی تھی۔بوجہ اسکے کہ عیسی کو غلطی سے آسمان پر سمجھتے ہیں۔مگر اب جبکہ مسیح کے آسمان پر جانے کی انجیلی آیات خود عیسائی محققین کی تحقیق کے مطابق بعد کی ملاوٹ ثابت ہو چکے ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح خود مشرق سے ظاہر ہوئے تھے۔جیسا تفصیل سے اگلے باب میں آتا ہے تو پھر اس ملاقات کو کشفی ماننے کی ضرورت ہی