مسیح کشمیر میں — Page 2
2 مَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِينٍ (مومنون:51) یعنی ہم نے ابن مریم اور اسکی ماں کو نشان بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک ایسے اونچے علاقہ کی طرف پناہ دے دی جو امن و آرام والا اور راحت کے چشموں والا تھا۔اس جگہ عیسی و مریم کیلئے اوای کا لفظ استعمال ہوا ہے اور اوی کا لفظ قرآن مجید میں بڑی مصیبت کے بعد کے معنی میں آتا ہے۔جیسا صلى الله رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے مدینہ میں پناہ لینے کے موقعہ فاوا گم (انفال: 27) کی آیت میں اوی کا لفظ استعمال ہوا ہے کیونکہ مسیح کی طرح آپ کے خلاف بھی مکہ میں قتل کی سازش ہوئی تھی اور یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح پر واقعہ صلیب سے بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں آئی تھی۔ربوہ کے معنی کی وضاحت سورۂ بقرہ کی آیت 266 سے بھی ہوتی ہے جس میں صدقات بڑھنے کی مثال میں فرمایا كَمَثَل جَنَّةٍ بِرَبُوَة یعنی صدقات کی مثال اس باغ کی سی ہے جو اونچے ٹیلے پر ہو اگر بارش ہو تو دو چند پھل دیدے اور اگر بارش نہ ہوتو شبنم ہی کافی ہو۔امام راغب اصفہانی کی مفردات القرآن میں ہے ربوہ بلند ترین کو کہتے ہیں۔جب ریا الرجل کہا جائے تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ وہ بلندی کی طرف چڑھا۔المنجد میں ہے مَا ارْتَفَعَ من الأرض جو سطح زمین سے بلند ہو۔ذات قرار مفردات میں سے ہے۔قرار کی اصل قر (سردی) جو سکون کو چاہتی ہے اور حُر ( گرمی ) حرکت کو چاہتی ہے۔قرآن مجید میں جنت کو خَيْرٌ مُسْتَقَرّاً کہا گیا ہے یعنی بہشت ٹھہرنے کیلئے بہترین جگہ ہے قُرَّة عَيْن اولاد کو بھی کہتے ہیں۔بوجہ ا سکے کہ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک اور سرور کا موجب ہوتی ہے۔معین جاری رہنے والا اور بہنے والا پانی۔چشمہ کا پانی۔المنجد میں ہے، ہر وہ پانی جو مفید ہو۔وادی میں بہنے والا پانی (از لفظ معن ) حضرت عباس نے بھی " ربوہ " کے یہی معنی بیان کئے ہیں کہ ایسی اعلی جگہ جو سطح زمین سے بلند ہو اور جولغوی معنی اوپر بیان کئے گئے ہیں ان پر دیگر مفسرین نے بھی اتفاق کیا ہے۔پس آیت مذکورہ سورۂ مومنون کے معنی یہ ہونگے۔”ہم نے مسیح اور مریم دونوں کو عمدہ سرسبز اور سطح زمین سے بلند جگہ پر پناہ دی جو سرد پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے امن وقرار والا اور بہتے چشموں والا ہے۔“ ربوہ سے مراد کشمیر جنت نظیر ہمارے نزدیک مذکورہ قرآنی آیت میں مبینہ تمام صفات پوری طرح کشمیر جنت نظیر پر منطبق ہوتی ہیں اس لئے ”ربوہ کشمیر جنت نظیر ہے اور مسیح کا صلیبی موت سے بچ کر اپنی والدہ حضرت مریم صدیقہ کے ساتھ پناہ لینا بھی اسی سرزمین میں تاریخی طور پر ثابت ہے۔جہاں انہیں امن وقرار حاصل ہوا