مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 1 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 1

1 باب اوّل بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم قرآن واحادیث میں حضرت عیسی" و مریم کے جنت نظیر پہاڑی علاقہ میں پناہ لینے کا ذکر قرآن و احادیث اور تفاسیر و تواریخ میں حضرت عیسی و مریم کے جو حالات ملتے ہیں ان میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسی کے دعویٰ نبوت کے بعد فلسطین میں یہودیوں نے رومی حکومت سے ساز باز کر کے آپ پر بغاوت کا مقدمہ چلایا جس میں آپ کو باغی قرار دیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ آپ کو صلیب دے دیا جائے۔آپ نے رورو کر خدا سے دعائیں کیں کہ مجھے اس مصیبت اور صلیب کی لعنتی موت سے بچالے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو سنا اور آپ کو بذریعہ الہام وعدہ دیا: يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَبْرُكَ ( آل عمران : 55-56) یعنی ” اے عیسی میں تجھے طبعی وفات دوں گا ( یہود تجھے قتل نہیں کرسکیں گے ) اور اپنی طرف تیرا رفع کروں گا اور تجھے ان کے الزامات سے پاک کروں گا اور تجھے اور تیرے ماننے والوں کو منکروں پر غلبہ بخشوں گا“ سورہ نساء میں فرمایا کہ یہود حضرت مسیح کو قتل کرنے اور صلیبی موت مارنے میں کامیاب نہیں ہو سکے وہ شبہ میں ڈالے گئے ( یعنی مسیح کو بوجہ غشی کے مردہ کے مشابہ سمجھ لیا ) ہم نے اسے اپنے حضور رفعت بخشی۔(النساء:158-160) قرآن کے یہ بیانات انا جیل کے بیانات سے بالکل صاف ہیں جن سے واضح ہے کہ حضرت مسیح کو خدا نے اپنے وعدہ کے مطابق صلیب کی موت سے بچا لیا اور اسے رفعت بخشی۔سورہ مومنون میں مزید وضاحت سے فرمایا کہ ہم نے مسیح ابن مریم اور اس کی والدہ مریم کو ایسے اونچے پہاڑی علاقہ میں پناہ دے دی جو جنت نظیر ، آرام و امن والا ، چشموں والا سر سبز و شاداب اور بہترین تھا۔جیسا کہ فرمایا: وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةٌ وَاوَيُنَاه