مسیح کشمیر میں — Page 17
17 چنانچہ لکھا ہے: وَتَقَدَّمَ يُورَأَسف أَمَامَهُ حَتَّى بَلَغَ فَضَاء وَاسَعِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَرَء ىٰ شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ عَلَى عَيْنِ مَا أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنَ الشَّجَرِ وَ أَكْثَرَهَا غُصْاً وَأَحْلَاهَا ثَمَراً وَقَدْ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ الطَّير مَالًا يُعد كَثَرَةٌ فَسَرَّ بذالِكَ المَنظِرِ وَ فَرِحَ بِهِ وَ تَقَدَّمَ إِلَيْهِ حَتَّى دَنَى مِنْهُ وَجَعَلَ يُعَبِّرُهُ فِي نَفْسِهِ ويُفَسِّرَ الشَّجَرَةَ بِالْبُشْرَى الَّتِي دَعَا إِلَيْهَا وَ عَيْنَ الْمَاءِ بِالْحِكْمَةِ وَالْعِلْمِ وَالطَّيْرَ بِالنَّاسِ الَّذِينَ يَجْتَمِعُونَ إِلَيْهِ وَيَقْبَلُونَ مِنْهُ الدِّينَ “ 66 (اکمال الدین صفحہ 358) یوز آسف نے اپنا سفر جاری رکھا یہاں تک کہ ایک وسیع فضا میں پہنچے۔اس نے اپنا چہرہ اٹھایا تو ایک بڑے درخت کو دیکھا جو پانی کے چشمہ پر تھا۔وہ درختوں میں سے کیا ہی خوبصورت درخت تھا اور اس کی شاخیں کثرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔اس کے میوے سب سے زیادہ میٹھے تھے۔اس درخت پر بے شمار پرندے کثرت سے جمع ہو گئے تھے۔پس وہ یہ نظارہ دیکھ کر بڑا خوش ہوا اور اسے فرحت حاصل ہوئی۔وہ اسکی طرف آیا یہاں تک کہ اس کے نزدیک آ گیا۔اور وہ اسکی تعبیر کرنے لگا اور اس نے درخت کو اس بشری“ سے تعبیر کیا جس کی طرف وہ لوگوں کو بلاتا تھا اور پانی کے چشمہ کی تعبیر اس نے علم و حکمت سے کی اور پرندوں کی تعبیر ان لوگوں سے کی جو اس کے پاس جمع ہو جاتے اور اس کا دین قبول کرتے تھے۔“ اس روایت سے ظاہر ہے کہ یوز آسف کا پانی کے چشمہ پر ایک خوش منظر درخت دیکھنا اور اس پر کثرت سے بے شمار پرندوں کو دیکھنا کوئی ظاہری نظارہ نہ تھا بلکہ دراصل ایک کشفی نظارہ تھا کیونکہ اگر یہ کوئی ظاہری نظارہ ہوتا تو وہ درخت کی تعبیر ”البشری اور چشمہ کی تعبیر علم و حکمت سے اور پرندوں کی تعبیر اپنے مریدوں سے نہ کرتے جو بذریعہ ایمان روحانی پرواز کے قابل بنے والے تھے۔قرآن مجید میں آیت كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ میں مسیح کی بابت جو ذ کر آتا ہے کہ مسیح نے کہا تھا کہ میں مردے زندہ کروں گا اور مٹی سے پرندوں کی مانند بناؤں گا جن میں پھوکوں گا تو وہ پرندوں کی مانند قابل پرواز بن جائیں گے۔اس کے معنی یہی تھے کہ مسیج بذریعہ ایمان لوگوں کو جو بوجہ کفر و جہالت کے مردہ ہو چکے ہونگے ، زندہ کر دیگا۔یعنی انہیں روحانی زندگی دے گا اور وہ اس کے انفاخ قدسیہ کے ذریعہ پرندوں کی مانند روحانی پرواز کے قابل ہو جائیں گے۔سوقرآن کی یہ پیشگوئی مسیح کے مشرقی سفر کے دوران پوری ہوگئی ور نہ مسیح کو خالق طیور سمجھنا بالبداہت باطل ہے اور کوئی موحد مسلمان ایسا مشرکانہ عقیدہ نہیں رکھ