مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 18 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 18

18 سکتا کہ مسیح پرندے پیدا کرتے تھے۔العیاذ بالله ! نیز اس روایت سے ظاہر ہے کہ یوز آسف البشری نامی کتاب کی طرف دعوت دیتے تھے۔اس عربی لفظ کا ترجمہ وہی ہے جو یونانی زبان میں ” انجیل کا ہے۔یعنی ”خوشخبری“ اس کے یہ معنی ہیں کہ البشری نامی کتاب یوز آسف کے ان الہامات کا مجموعہ تھی جو یوز آسف پر خدا کی طرف سے نازل ہوتے تھے اور البشری اور انجیل ایک ہی کتاب ہے۔سفر کشمیر اور وفات: اس کے بعد مصنف نے ارض سولابط میں جانے کے بعد یوز آسف کے سفر کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: تم انتَقَلَ مِن أَرضِ سَولَابِطَ وَ سَارَ فِي بَلَادٍ مَدَائِنٍ كَثِيرَةٍ حَتَّى أَتَى أَرضاً لَتُسَمَّى قَسْمِيرَ فَسَارَ فِيهَا وَ أَحْيَافِيهَا وَمَكَتَ حَتَّى أَتَاهُ الْأَجَلُ إِلَى خُلع الجَسَدِ وَارتَفَعَ إِلَى النُّورَ وَ قَبْلَ مَوتِهِ دَعَا تِلميذاً لَهُ اِسمُهُ يَا بَدُ الَّذِي كَانَ يَخْدُمُهُ وَيَقُومُ عَلَيْهِ وَ كَانَ رَجُلاً كَامِلاً فِي الأُمُورِ كُلِّهَا فَاَوصَى إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ قَدْ دَنَا ارْتَفَاعِي عَنِ الدُّنْيَا فَاحْفَظُوا بفَرَائِضِكُم وَلَا تَزِيغُوا عَن الحَقِّ وَخُذُو ابا لنُّسُكِ ثُمَّ أَمَرَ يَا بَدان يَبْنِي لَهُ مَكَاناً وَ بَسَطَ هُوَ رِجلَيْهِ وَ هَيَّاء رأسَهُ إِلَى الْغَرْبِ وَوَجْهَهُ إِلَى الشَّرْقِ ثُمَّ قضى نحبه۔“ (اکمال الدین صفحه 359 ) پھر وہ ( یوز آسف ) ارض سولاربط سے منتقل ہوئے اور بہت سے ملکوں اور شہروں کی سیر کرتے ہوئے اور اس سرزمین میں پہنچے جس کا نام قشمیر (کشمیر) ہے۔اس نے کشمیر میں سیر کی اور وہیں زندگی بسر کی۔یہاں تک کہ آپ پر اپنے جسم سے روح کے علیحدہ ہونے کا وقت آ گیا اور آپ نور کی طرف اٹھائے گئے اور اپنے مرنے سے پہلے آپ نے اپنے ایک شاگرد کو بلایا جس کا نام یا بد تھا جو آپ کی خدمت اور حفاظت کرتا تھا اور وہ تمام امور میں کامل تھا۔اسے آپ نے وصیت کی اور کہا کہ میرا دنیا سے اٹھایا جانا قریب ہے۔پس تم اپنے فرائض کی حفاظت کرتے رہو اور حق سے ادھر ادھر نہ ہونا اور عبادات بجالاتے رہنا۔پھر اس نے یا بد کو حکم دیا کہ وہ اس کا مقبرہ بنائے اور اس نے اپنے دونوں پیر پھیلا دیے اور اپنے سر کو مغرب کی طرف کیا اور اپنے منہ کو مشرق کی طرف اور وفات پائی۔اس پر اللہ کی رحمت ہو۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ حضرت یوز آسف سیر کرتے ہوئے کشمیر کی سرزمین میں پہنچے اور وہیں اردور یفرنس بائیل کے فٹ نوٹوں میں انجیل کا دوسرا نام ”خوشخبری“ ہی لکھا گیا ہے جس کا عربی ترجمہ "البشر کی ہی ہے۔(ملاحظہ ہو رومیوں کا فٹ نوٹ باب 1 آیت 16) پس البشری انجیل کا ہی دوسرا نام ہے جو عیسائیوں کو بھی مسلم ہے۔