مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 98 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 98

98 گرے اور چڑیاں چگ گئیں وہ ان نصیحتوں کی مانند ہیں جو کان تک پہنچیں اور دل پر مؤثر نہ ہوئیں اور جو دانے پتھر پر گرے اور کچھ جھے اور پھر اسکی تختی نے انہیں جلا دیاوہ مثل ان نصیحتوں کے ہیں کہ کوئی شخص سنے اور دل لگا کر سنے اور سمجھے لیکن انکو اپنے ذہن میں محفوظ نہ رکھے اور جو دانے اُگے اور کانٹوں نے انہیں بریکار کر دیا ، انکی مثال ان نصیحتوں کی ہے کہ سننے والا سنے اور سمجھے اور گرہ میں باند ھے مگر جب عمل کرنے کا موقع آئے تو خواہش ہائے نفسانی قدم آگے نہ بڑھنے دیں اور انکے ہونے نہ ہونے کو برابر کر دیں اور وہ دانے جو پچھلے اور پھولے وہ ایسی نصیحتیں ہیں جنہیں کان سنیں اور عقل سمجھے اور حافظہ محفوظ رکھے اور عزم و ہمت انہیں عمل میں لائے اور یہ بات تب ممکن ہے جب بری خصلتوں اور خواہشوں کی جڑ دل سے اکھاڑ ڈالی ہو اور نفس کو برائیوں سے پاک وصاف کر دیا ہو۔ی تمثیل بالکل اسی تفصیل کے ساتھ انجیل متی باب 13 آیات 3, 19, 24, 31, 37 اور انجیل مرقس باب 11 آیت 26 میں آج تک موجود ہے۔9۔سب سے بڑھ کر عادل وہ ہے جو لوگوں کے ساتھ اکثر اپنے نفس کو ملزم قرار دے اور سب سے بڑھ کر ظالم وہ ہے جو اپنے ظلم کو عدل سمجھے اور سب سے بڑھ کر منظمند وہ ہے جو اپنا سامان آخرت درست کرے اور سب سے بڑھ کر نا دان وہ ہے جو محض دنیا میں ہی مصروف ہو جائے اور سب سے بڑھ کر خوش نصیب وہ ہے جس کے اعمال کا انجام بخیر ہو اور سب سے بڑھ کر بد نصیب وہ کہ اس کے اعمال خدا کی ناراضگی پر منتج ہوں۔10- اگر کوئی اچھی بات بُرے لوگوں میں بھی ہوا سے برا نہ سمجھو اور اگر کوئی بری بات اچھے لوگوں میں ہو تو اسے اچھا نہ سمجھو۔11۔ہندوستان کے ایک بادشاہ جینسیر نے یوز آسف سے کہا تھا کہ ایک انسان دوسرے انسان کے گناہوں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔اس پر یوز آسف نے کہا کہ اے بادشاہ! کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور گناہوں کی سزا سے نہیں بچا سکتا آپ نے مثال دے کر سمجھایا کہ اے بادشاہ! میرے ہاتھوں میں یہ زخم ہیں ( صلیبی زخم تھے ) اور مجھے ان سے درد اور تکلیف ہے۔آپ میرے دکھ اور در دکو دور کرسکیں گے یا اسے بٹا سکیں گے۔بادشاہ نے کہا ایسا کس طرح ہوسکتا ہے۔یوز آسف نے کہا جب آپ بادشاہ ہوتے ہوئے میری تکلیف کو نہ دور کر سکتے ہیں نہ اسے بٹا سکتے ہیں تو اگر میں آخرت میں دوزخ کی آگ میں پڑوں تو آپ مجھے اس سے کیسے بچالیں گے ، جب کہ آپ وہاں بے بس ہونگے۔تورات میں