مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 90 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 90

90 نے اسے اس حالت میں دیکھا تو اس کا دل بھر آیا۔اس نے اسکی پیشانی پر مفصلہ ذیل شلوک لکھا دیکھا۔اسکی زندگی افلاس میں گزرے گی۔دس برس قید میں رہے گا۔سولی پر جان دیگا اور اسکے بعد تخت کا مالک بنے گا۔آدھی رات کے وقت ایشان دیو نے جو اپنے خیالات کی الجھن میں پڑا ہوا جاگ رہا تھا ریکا یک آسمانی عنبر کی خوشبو محسوس کی اور ایک قسم کا بھیانک شور جو گھنٹوں اور نقاروں کی آوازوں سے پیدا ہوتا تھا اسکے کانوں میں پہنچا۔اسکے بعد جو گنیوں کا ایک مجمع جن کے گرد روشنی کا ہالہ بنا ہوا تھا اسکی نظر پڑا۔جس نے سندھی متی کے پنجر کو اپنے حلقے میں کر لیا۔کیا دیکھتا ہے کہ مجمع اسکے اعضاء کو جوڑ رہا ہے۔اب سندھی متی ایک ایسے شخص کی طرح اٹھ بیٹھا جیسے کوئی خواب سے بیدار ہوتا ہے۔اسکے بعد یہ آواز آئی۔اے ایشان! خائف مت ہو، یہ شخص جسے ہم نے آسمانی جسم سے مرتب کیا ، زمین پر سندھی متی کے نام اور اپنے شریفانہ چال چلن کی وجہ سے ” آریہ سماج کے لقب سے مشہور ہوگا۔ایشان دیو نے اسے گلے لگالیا۔کشمیر کے لوگوں نے بھی اسکے دوبارہ زندہ ہونے پر بڑی خوشی منائی اور متفق ہو کر لا ولد جے اندر کی جگہ اسے تخت پر بٹھایا۔وہ فقیرانہ زندگی چھوڑ کر بادشاہ نہ بننا چاہتا تھا مگر اہل ملک کے اصرار اور اپنے گرو ایشان دیو کے فرمان کے مطابق اس نے تخت پر بیٹھنا منظور کر لیا۔اس نے عدل وانصاف سے حکومت کی۔اس نے ایک معبد اپنے گرو ایشان دیو کے نام پر بنوا کر اس کا نام ایشی شور ( عیسیٰ ایشور۔ناقل ) قرار دیا۔عبادت میں بسر کرتے ہوئے اس نے 47 سال حکومت کی اور آخر سلطنت چھوڑ کر کسی غار میں عبادت کیلئے چلا گیا۔“ راج ترنگی مترجم اردواز ٹھا کر اچھر چند شاہپور یہ ملخصا از صفحه 177 تا صفحہ 194 مطبوعہ 1912ء) پنڈت کلہن نے اس بیان میں دراصل حضرت عیسی علیہ السلام کے کشف کا ذکر کیا ہے جس میں وحی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سمجھایا کہ سندیمان سولی کی موت سے بچ جائیگا اور تخت نشین ہوگا ، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اس کشف کے یہ معنی نہیں تھے کہ سندیمان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوا۔اسکی تعبیر یہ تھی کہ گو اس کو مردہ کے حکم میں کر دیا گیا ہے تاہم خدائی تائید سے وہ نئی زندگی پائے گا۔یہاں تاریخ کچھ الجھی ہوئی معلوم ہوتی ہے کیونکہ ہندوؤں کی تاریخ محفوظ نہیں تھی۔ملا قادری کی تاریخ میں سلیمان کو راجہ گو پادت کا وزیر قرار دیا گیا ہے اور اسی زمانہ میں وہ موجود تھا۔لیکن پنڈت کلہن کے مطابق اسے قتل کرنے کا حکم راجہ جے اندر دیتا ہے۔جس کے کان سند یمان کے خلاف بھرے گئے اور ان دونوں راجاؤں کے درمیان ساڑھے تین سوسال کا فرق پڑتا ہے۔اس صورت میں قرین قیاس ہے کہ جے اندر راجہ گو پادت کا لقب ہو کیونکہ عام تاریخوں میں سند یمان