مسیح کشمیر میں — Page 78
78 پنجاب و تلج و جمنا کے درمیان علاقہ کو ہندو برہماورت کہتے تھے۔اس کے علاوہ شمال مغرب کے سارے علاقوں میں چونکہ بنی اسرائیل پھیلے ہوئے تھے اور افغانستان ، ایران، عراق، کشمیر سب جگہ جابجا منتشر تھے اسلئے کہا گیا کہ سارا جگت یعنی ساری دنیا پیروان موسیٰ سے بھری پڑی ہے۔بھوشیہ پر ان کے ایک نسخہ میں تو رات کی کتاب پیدائش کے اس حصہ کا خلاصہ درج ہے جس میں آدم سے لے کر حضرت ابراہیم تک کے حالات کا بیان ہے۔حمید ہمالیہ کے دامن میں کلیسیا کا قیام بندھیا چل میں ناتھ جوگی‘ ایک ہندو فرقہ ہے اسکے پاس ایک کتاب’ ناتھ مامو بلی نام سے ہے اس میں لکھا ہے : عیسی ناتھ کو اپنے ہم وطنوں نے ہاتھوں میں کیل لگا کر سُولی پر چڑھایا اور مردہ سمجھ کر قبر میں رکھ دیا مگر عیسی ناتھ نے قبر سے نکل کر آریہ دیس میں فرار اختیار کیا اور کوہ ہمالیہ کے دامن (کشمیر) میں ایک خانقاہ قائم کی اور خانیار سرینگر میں انکی سمادھی ( مزار ) ہے۔“ وسط ایشیا میں مسیح کی سیاحت کی شہرت (ماہنامہ بکتر اپوہ 1936 ء بزبان بنگلہ ) پنڈت جواہر لال نہرو سابق وزیر اعظم ہندوستان جو تاریخ ہند پر سند کا درجہ رکھتے ہیں اپنی مشہور کتاب "Glimpses of World History ( تاریخ عالم کی جھلکیاں ) نامی میں مسیح کی وسط ایشیا، تبت، کشمیر اور حدود چین تک کے شمالی علاقوں میں سیاحت کرنے اور لوگوں میں اس کا یقین ہونے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : "All over central Asia, in Kashmir, Laddakh and Tibet and even farthest north there is still a strong belief that Jesus or Isa travelled about there۔" تمام وسطی ایشیاء کشمیر ، لداخ اور تبت اور اسی طرح اس سے اگلے شمالی علاقہ میں اب بھی یہ مضبوط یقین پایا جاتا ہے کہ یسوع یا عیسی نے ان علاقوں میں سفر اختیار کیا۔تفصیلات الفرقان فروری 1973ء میں شائع شدہ ہیں۔کتاب مذکور جواہر لال نہر و سابق وزیر اعظم بھارت صفحہ 86