مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 75 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 75

75 ٹکیہ ہے ) ہے۔خدا خود اپنے طریق کو نہیں چھوڑ تا جس طرح سورج ہمیشہ آخر کا رسب خطا کار مخلوق کی روح کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔اس پیغام کے ساتھ اے بادشاہ (ایھا ماسی؟) غائب ہو گئی اور ایشا (خدا) کی با برکت تصویر جو برکت دینے والی تھی چونکہ ہمیشہ میرے دل میں تھی ، میرا نام عیسی مسیح قرار دیا گیا۔یہ الفاظ سننے کے بعد بادشاہ نے ملیچھوں کے سردار کو وہاں سے روانہ کر دیا اور ان کو ملیچھوں کی بے رحم زمین میں بسا دیا۔کتاب میں لکھا ہے کہ بھوشیہ مہا پر ان کے دو علیحدہ علیحدہ متن ہیں جن میں باہم بہت اختلاف ہے۔دونوں ہی بمبئی میں 1910ء میں طبع ہوئیں۔ہم یہ اطلاع پر وفیسر ڈی۔ڈی کو ساممی کی طرف سے دے رہے ہیں جو سنسکرت کا مشہور عالم ہے۔خواجہ نذیر احمد کا اقتباس اس اقتباس سے پہلے دیا گیا ہے اسے خواجہ صاحب نے ستا کا مہا پران بتایا ہے۔جو 1910ء میں راجہ پرتاب سنگھ (مہاراجہ کشمیر ) کے حکم سے شائع ہوا۔اس مہا پر ان کے اقتباس میں راجہ شالوا ہن کا سا کا راجہ سے ملنے کا ذکر ہے جس نے شالوا ہن کو یہ بتایا کہ میں یو سا شافت اور عیسی مسیح ہوں ، اس بارہ میں پروفیسر کو سامی کی رائے ”جیز زبان روم میں صفحہ 7 پر یہ درج کی گئی ہے کہ طاقتور بادشاہ جس کا اس اقتباس میں ذکر ہے۔کشان کا بادشاہ تھا اور اس اقتباس میں شالبا ہن کا نام غلطی سے لکھا گیا ہے کیونکہ اس نے بھی سا کا قوم کو شکست دی تھی۔شاید اصل ریکارد میں کشان کے بادشاہ کنشک کی طرف اشارہ ہے جو کہ شالبا ہن کا ہمعصر تھا۔کنشک کی تاجپوشی کی تاریخ ڈاکٹر جان فلیٹ نے جو انسائیکلو پیڈیا برطانیہ انڈین انسکریشن کے مصنف ہیں 58 ق م میں لکھا ہے۔بہر حال کنشک پشاور پر حکومت رکھتا تھا اور اسکے متعلق یہ معلوم ہے کہ اس نے کشمیر کو فتح کیا تھا اور جب وہ دین مقام کشمیر پر تھا تو ممکن ہے اس نے غلطی سے مبارک شخصیت (جس سے اس نے ملاقات کی ) کوسا کا قوم کا راجہ سمجھ لیا ہو۔ہندوستان کی وقائع نگاری اب تک بھی پراگندگی کی حالت میں ہے اور بعض تاریخ دان خیال کرتے ہیں کہ شالواہن کے عہد کا افتتاح در حقیقت کنشک کے ذریعہ ہوا تھا۔ہماری رائے یہ ہے کہ تاریخ کشمیر سے جو ملا نادری کی خیال کی جاتی ہے اس کے اقتباس سے جس کا فوٹو پرنٹ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر کا راجہ جس کے زمانہ میں یوز آسف سرینگر میں رہتا تھا اور جو یسوع مسیح خیال کیا جاتا تھا، گو پانند ( گو پادت) تھا جو اپنے باپ راجہ اکھ کے معزول ہونے کے بعد حکمران بنا تھا۔کو ساممی کی اس رائے کے پیش نظر کہ شالواہن کی ملاقات مسیح سے نہیں ہوئی تھی بلکہ کنشک کی