مسیح کشمیر میں — Page 74
74 If St۔Thomas, whose tomb is shown at Mylapore (Madras), also in Malabar۔۔۔(perhaps ) in Ceylon, made peregrinations to these regions, his Teacher may۔۔۔have travelled to ; but to accept A۔D۔78 as Salivahana's date would make۔۔۔over eighty years old at the supposed meeting۔JESUS IN ROME By Robert Graves and Joshua Podro Published by Cassele & Company Ltd۔London Chapter The Tomb of Jesus۔Page 76,77,78 and 79۔اس کا اردو تر جمہ یوں ہے : ایک دفعہ سا کا قوم کا سردار ( خود شالواہن جو انکا فاتح تھا ) ہمالیہ کی ایک چوٹی پر گیا۔وہاں بہن (یعنی کشان ) کی سرزمین میں اس طاقتور بادشاہ نے ایک بابرکت آدمی کو جو سفید رنگ کا سفید لباس پہنے تھا دیکھا، اس نے پوچھا! تم کون ہو؟ دوسرے نے جواب دیا ، مجھے خدا کا بیٹا جان لو، میں کنواری کے حمل سے پیدا ہوا ہوں، میں ملیچھوں کے مذہب کا واعظ ہوں اور صداقت کی پیروی میں مضبوط ہوں۔یہ سننے پر بادشاہ نے پوچھا آپ کے مذہب کے اصول کیا ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا، شاہ معظم! ملیچھوں میں سچائی کا خاتمہ ہو گیا اور اخلاق ضائع ہو گئے۔میں جو سیح ہوں مبعوث ہوا۔غیر مہذبوں کی دیوی ( درسیو ) جس کا نام اھا اسی ہے نے اپنے آپ کو خوفناک بھیس میں ظاہر کیا اور میں نے اس کے ملیچھوں کے طریق پر پہنچ کر اس سے مسیح کا مقام حاصل کیا۔اے بادشاہ! آپ اس مذہب کو سنیں جو میں نے ملیچھوں میں نافذ کیا۔اپنی انسانیت کو صاف اور جسم کو پاک کرنے کے بعد اور ” نے گما“ کو عبادت میں استعمال کرتے ہوئے انسان کو ابدی مقدس ہستی کی عبادت کرنی چاہئے۔انصاف سچائی ، دلجمعی اور پوری توجہ کے ساتھ انسان کو اس (خدا) کی عبادت کرنی چاہئے جو سورج کے آسمان میں ( سور یہ منڈالا جو کہ سورج کی