مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 71 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 71

71 چھوڑ دیا اور لوٹ کے مال کیساتھ واپس ہو گئے۔اس سے کچھ عرصہ بعد راجہ شالوا ہن تخت پر قابض ہو گیا۔اس نے تھوڑے ہی عرصہ میں سا کاؤں، چینیوں ، تاتاریوں ، والھکوں (بخارا کے رہنے والوں ) کا مرویوں ( پارتھیوں ) اور خراسانیوں کو شکست دی اور انہیں سزادی پھر اس نے ملیچھوں اور آریوں کو الگ الگ ملکوں میں آباد کر دیا۔ملیچھوں کو دریائے سندھ سے پار اور آریوں کو دریا کے اس جانب رکھا گیا۔ایک دن راجہ ہمالہ کے ایک ملک میں گیا وہاں پر سا کا قوم کے راجہ کو دین مقام پر دیکھا۔یہ شخص سفید رنگ اور سفید لباس پہنے ہوئے تھا۔راجہ نے (اسے) پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ اس کا جواب یہ تھا کہ وہ یوسا شافت (یوز آسف) ہے اور ایک عورت کے ہاں پیدا ہوا ہے۔(شالواہن کے حیران ہونے پر ) اس نے کہا وہ سچ کہتا ہے اور وہ مذہب کو پاکیزہ بنانا چاہتا ہے۔راجہ نے پوچھا اس کا مذہب کیا ہے؟ اس نے جواب دیا ، اے راجہ ! جب ملیچھ دیش میں سچائی غائب ہوگئی اور ( بد عملی کی ) کوئی حد نہ رہی تو میں وہاں ظاہر ہوا اور میرے کام سے مجرموں اور شریروں نے تکلیف اٹھائی اور میں نے بھی انکے ہاتھوں سے تکلیف اٹھائی۔راجہ نے اس سے پوچھا اس کا مذہب کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ وہ محبت ،سچائی ، دل کی پاکیزگی ہے اور اس وجہ سے میں مسیح کہلا تا ہوں۔راجہ آداب بجالانے کے بعد واپس چلا گیا۔“ بھوشیہ مہا پر ان کی آلوچنا میں نقاد مترجم نے مسیح کے کنواری عورت سے پیدا ہونے کا ذکر کیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ نذیر احمد نے کنواری کا لفظ اپنے عقیدہ کے خلاف پا کر تر جمہ سے حذف کر دیا۔کیونکہ وہ لاہوریوں کے احمدی فریق سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے یہ عقیدہ اختیار کر رکھا ہے کہ مسیح کنواری کے پیٹ سے بن باپ پیدا نہیں ہوا تھا۔خواجہ نذیر احمد صاحب کے ترجمہ کا اسکے بعد کا حصہ خود اس لفظ کے کاٹا جانے پر روشن دلیل ہے۔کیونکہ آگے لکھا ہے اس پر راجہ حیران ہوا اور مسیح نے اسے جواب دیا کہ وہ سچ کہتا ہے۔اگر کنواری عورت سے پیدا ہونے کا ذکر نہ ہوتا ، عام عورت سے پیدا ہونے کے ذکر کی نہ ضرورت تھی اور اس صورت میں اس کے بلا ضرورت ذکر کرنے پر راجہ حیران نہیں ہو سکتا تھا۔پس ” بھوشیہ مہا پران“ میں کنواری عورت سے مسیح کے پیدا ہونے کا ذکر ضرور موجود ہے ورنہ الوچنا میں پنڈت لکشمن کماری ( کنواری ) عورت کے الفاظ تر جمہ میں نہ لکھتے۔یورپ کے دو ممتاز علماء رابرٹ گریوز اور یشوعا پوڈرو کو خواجہ نذیر احمد صاحب مرحوم کی مذکور کتاب سے پستہ لگا کہ بھوش مہا پر ان میں ہمالہ دیش کی چوٹیوں پر ایک راجہ کی حضرت مسیح سے ملاقات کا ذکر ہے۔انہوں نے اصل حوالہ کی تحقیق کیلئے ہندوستان کے ایک سنسکرت دان عالم کو لکھا جو اس وقت ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف