مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 66 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 66

66 روحانی تربیت ، خدمت خلق اور مقدس نوشتوں کو ضبط تحریر میں لا کر محفوظ کرنے کا کام کرتے رہے۔جواس جماعت میں شامل ہوتا تھا اسے یہ عہد کرنا پڑتا تھا کہ میں ہمیشہ پوری دیانتداری اور احتیاط سے صحائف اور نوشتوں کو مخفی ومحفوظ رکھوں گا۔68ء میں جب رومیوں نے یروشلم کے گردو نواح کو فتح کر کے وہاں قتل و غارت گری شروع کر دی تو ساتھ ہی عیسائیوں کے مذہبی لٹریچر کو ضائع کرنا شروع کر دیا۔ان حالات میں عیسائیوں کیلئے اپنے مراکز سے ہجرت کرنا نا گزیر ہو گیا۔انہوں نے حفاظتی اقدامات کے تحت اس موقع پر اپنی عظیم الشان لائبریری کو جو صحف مقدس پر مشتمل تھی قریبی غاروں میں منتقل کر دیا اور غاروں کا منہ بند کر دیا۔ان صحائف سے حضرت عیسی علیہ السلام کی نا معلوم زندگی کے حالات اور واقعہ صلیب سے بچنے کے بعدان زبوروں اور دعاؤں کا علم ہو جاتا ہے جو انہوں نے خدا سے مانگیں۔ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا ایک راستباز نبی یہودیوں کی طرف مبعوث ہوا۔یروشلم کے علماء ، یہود اور انکے سردار کا ہن نے اسکی ہر ممکن مخالفت کی اور اس مقدس اور پُر امن زندگی بسر کرنے والے انسان کو گرفتار کر کے بہت سی اذیتیں دی گئیں۔اس پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے حکومت کا باغی قرار دے کر صلیب پر لعنتی موت مارنے کا فیصلہ سنادیا گیا اور اسے صلیب پر چڑھا کر لعنتی موت مارنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس صادق انسان اور بچے نبی کوموت کے منہ سے بچا کر دشمنوں کو خائب و خاسر کر دیا ور ا سے ایک بلند و بالا حفاظتی دیواروں کے ملک میں پناہ دی گئی۔اس میں جو حد یہ گیت ہیں ان میں بیان کیا گیا ہے کہ خدا نے دشمن کے ہاتھوں اور موت کے پنجوں سے اسے نجات دیدی۔خدا نے اسکی دعاؤں کو سنا اور لعنتی موت سے بچالیا اور اب وہ دنیا کے وسیع میدانوں کا سفر کر کے اسرائیلی گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیٹروں میں خدا کا نام بلند کرے گا اور انہیں پیغام حق پہنچائے گا۔کیمبرج ڈاکٹر جے ایل ٹیشنر (Dr۔J۔L۔TEICHNER) لکھتے ہیں: بحیرہ مردار کے صحائف میں صادق استاد اور اسکی غریب جماعت کا ذکر ہے اور تعلیمات کو بگاڑنے والے ایک مبلغ کا بھی۔یہ غریب جماعت ایونی عیسائی ہیں جو یہودیوں میں سے مسیح پر ایمان لائے تھے اور انہوں نے یہودی شریعت پر برابر عمل جاری رکھا اور مقدس استاد یسوع ناصری ہیں۔66 ذیل میں ہم اس مقدس استاد کے زبوروں سے چند اقتباسات نقل کرتے ہیں تا کہ قارئین خود اندازہ کر سکیں کہ یہ صادق استاد سوائے یسوع مسیح کے اور کوئی نہیں ہوسکتا، زبور چہارم میں فرماتے ہیں: * - The Dead Sea Community by KURT SEHBEIT۔p۔35 -The scrolls from the Dead Sea by Edmond wilson۔p 97۔