مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 62 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 62

62 چکا ہے۔اس اثناء میں حکیم نقاد یمس اور یوسف ارتیا پیلاطوس سے اجازت لے کر آگئے کہ لاش انکے سپرد کر دی جائے۔چنانچہ انہوں نے لاش کو صلیب سے احتیاط سے اتار کر ایک کشادہ کمرہ نما غار میں رکھ دیا جس کا پہلے سے انتظام کیا گیا تھا۔حکیم نقادیمس نے جو ماہر طبیب تھا، مسیح کے زخموں کے علاج کیلئے بہترین ادویات استعمال کیں اور ایک زود اثر اور حد درجہ مفید مرہم آپ کے زخموں کیلئے تیار کی۔اس کے علاوہ ایک قدرتی علاج یہ میسر آ گیا کہ شدید زلزلہ سے بعض پہاڑیاں پھٹ گئیں اور انکے پھٹنے سے تیز بُو پیدا ہوئی جو حکیم مذکور کے نظریہ کے مطابق آپ کے سانس کے اجراء کیلئے اکسیر کا حکم رکھتی تھی۔جب یہ بُو پیدا ہوئی تو حکیم نقاد یمس خوش ہوا کہ یہ بو بہت مفید ہے۔یوسف ارتیا کے تو اسوقت بھی آنسو بہہ رہے تھے جس وقت حکیم نقاد یمس مسیح کے کانوں میں پھونک پھونک کر مسیح کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا۔یوسف کہتا تھا کہ یسوع کے بچنے کی کوئی امید نہیں۔حکیم نقاد یمس اسے بار بار تسلی دیتا تھا کہ یسوع کا دل حرکت کر رہا ہے اور بچنے کی امید رکھ! تیسرے دن صبح کو مسیح نے آنکھ کھولی اور وہ ہوش میں آگئے۔جو نبی انکی آنکھ کھل گئی یوسف ارمتیا نے انکو گلے سے لگالیا۔اسکی اور حکیم نقاد یمس کی خوشیوں کی کوئی انتہا نہیں رہی۔ہوش میں آنے پر مسیح نے کہا کہ میں کہاں آ گیا ہوں۔اس پر حکیم موصوف نے انہیں بتلایا کہ وہ کہاں ہیں اور کس طرح یہاں پہنچے ہیں۔اس کے بعد آپ کو یہاں سے پاس کے اور مخفی مکان پر لے جایا گیا جو ایسینی فرقہ کے کسی ممبر کا مکان تھا وہاں آپ کا علاج جاری رہا یہاں تک کہ آپ چند دنوں میں چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔آپ چھپ چھپ کر خفیہ راستوں سے حواریوں کو ملتے رہے۔بعض دفعہ یہودیوں نے آپکو پہچان بھی لیا ، لیکن فرقہ ایسینی (اسیری) احباب کی کڑی نگرانی اور امداد کی وجہ سے انکی نظروں سے اوجھل ہو جاتے رہے۔سردار کا ہن قیافہ جس نے آپکو صلیبی موت کی سزادی تھی کو بھی علم ہو گیا کہ یوسف ارتیا اور حکیم نقادیمس اور پیلاطوس ( گورنر یہودیہ ) نے سازش کر کے مسیح کو بچالیا۔یہود کے دباؤ کے باعث یوسف ارتیا کو قید کر لیا گیا۔(بعد میں پیلاطوس کے اثر کے ماتحت اسکو چھوڑ دیا گیا ) ملک میں مسیح کے خلاف بہت شورش تھی اسلئے ایسینی فرقہ کے احباب نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ یہاں سے کسی اور جگہ تشریف لے جائیں ورنہ فساد کا بہت اندیشہ ہے۔آپ سفر کیلئے تیار ہو گئے۔آپ نے فرمایا مجھے خدا نے اپنا ہاتھ بڑھا کر دشمنوں کے پنجے سے بچالیا۔اس میں بھید یہ ہے کہ مجھے کسی خاص اور اہم مشن کیلئے خدا نے زندگی دی ہے آرام و استراحت کیلئے نہیں۔چنانچہ آپ نے سفر کی تیاری کی اور پھیلی ہوئی گہر اور دھند کے درمیان مخفی طور