مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 51 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 51

51 میں نکولس کے بارے میں بعض صفحات ملے ہیں جن میں لکھا گیا ہے کہ مسیح واقعہ صلیب کے وقت مرے نہیں تھے بلکہ ہند و نیپال ، تبت اور کشمیر میں تشریف لائے تھے۔اس سے ظاہر ہے کہ نکولس کو مسیح کے مشرق میں بعد واقعہ صلیب کی آمد کی روایت معلوم ہوئی تھی اور اس نے اپنے بعض دوستوں سے بھی اس روایت کا ذکر کیا تھا، لیکن جو کتاب اس نے شائع کی اغلبا عیسائی چرچ اور عوام کی ناراضگی کے اندیشہ سے اس نے اس روایت کا ذکر نہیں کیا۔فصل پنجم میں نکولس نے لکھا ہے کہ عیسی مسیح سندھ میں آپریش کر کے پنجاب اور راجپوتانہ سے گزرے جین مت والوں نے ان سے انکے پاس قیام کی خواہش کی لیکن وہ ان گمراہ پجاریوں کے پاس نہ رہے اور جگن ناتھ ( اڑیسہ ) گئے۔جہاں کرشن جی کے پھول (یعنی جلی ہوئی ہڈیاں ) دفن تھے اور وہاں بھاری کتب خانہ بھی تھا۔پھر وہ راج گڑھ، بنارس اور دیگر متبرک مقامات تک چھ برس تک پھرتے رہے۔چونکہ وہ براہمن اور شودروں میں بحیثیت انسان، مساوات، توحید اور ایک ہی خالق کے سامنے عبادت اور قربانی پیش کرنے پر زور دیتے تھے جس پر برہمن ان کے خلاف ہو گئے اور انہوں نے انکے خلاف قتل کی سازش کی۔آپ کو مخفی طور پر اسکی اطلاع مل گئی تو آپ شمال مغربی پہاڑی علاقوں نیپال، تبت اور لداخ کی طرف چلے گئے اور وہاں کچھ عرصہ اپنا کام جاری رکھا۔یہاں تک کہ آپ کشمیر چلے گئے۔