مسیح کشمیر میں — Page 40
40 ان لوگوں کے پاس جائے گا جو یونانیوں میں جابجا رہتے ہیں اور ان کو تعلیم دے گا۔یہ کیا بات ہے جو اس نے کہا کہ تم مجھے ڈھونڈو گے پر نہ پاؤ گے۔“ (یوحنا باب 7 آیت 35-36) اس سوال و جواب سے صاف پتا چلتا ہے کہ مسیح نے آرامی زبان میں جو لفظ استعمال کیا تھا اسکے معنی زمین کے بلند علاقہ کی طرف خدا کی پناہ میں جانے کے تھے نہ آسمان پر جانے کے۔کو شروت“ کی سرزمین میں جائے گا زبور باب 68 آیت 6 میں ہے کہ خدا تنہا کو خاندان بخشتا ہے وہ قیدیوں کو آزاد کر کے اقبال مند کرتا ہے لیکن سرکش خشک زمین میں رہتے ہیں۔آیت 18 میں ہے تو نے عالم بالا کوصعود فر مایا تو قیدیوں کو ساتھ لے گیا۔تجھے لوگوں سے بلکہ سرکشوں سے بھی ہدیے ملے تا کہ خدا وندخدا انکے ساتھ رہے۔اس زبور میں قیدیوں کو آزاد کر کے اقبال مند کرنے کا ترجمہ جن عبرانی الفاظ میں کیا گیا ہے وہ اصل میں یہ ہیں۔اسیریم بکوشروت“ یعنی وہ (مسیح) اپنے اسیروں کو آزاد کر کے ” کو شروت‘ میں لے جائیگا اور لاطینی بائیبل میں کو شروت“ کا ترجمہ کیا گیا ہے LAND OF PLENTY یعنی نعمتوں کی سرزمین جہاں سے ہر شے فراوانی سے دستیاب ہو۔اس ترجمہ کی صحت کی تائید خشک زمین والے بالمقابل الفاظ سے بھی ہوتی ہے۔خشک زمین کے مقابلہ میں ” کو شروت" کے لفظ کے معنی ہونگے سرسبز و شاداب زمین، نعمتوں اور فراوانی کی زمین۔جس سے آیت وَ أَوَيْنَا هُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِین کے معنوں کی تائید ہوتی ہے۔زبوروں میں مسیح کی پناہ گاہ کی تعریف جب ہم زبوروں میں ان مقامات کا مطالعہ کرتے ہیں جن میں مسیح کو پناہ دینے کا صراحتہ کنا بیت یا اشارۃ ذکر ملتا ہے تو درج زیل الفاظ میں اسکی طرف اشارات ملتے ہیں۔مقدس مقام (زبور باب 24 آیت (3) مقدس پہاڑ ( زبور باب 3 آیت 4) راحت کے چشموں کی جگہ ( ذات معین ) ( زبور باب 23 آیت 2) راحت و آرام کی جگہ (ذات قرار ) ( زبور باب 23 آیت 2 باب 95 آیت (11 ) زندگی کی زمین و مقدس مکان ( باب 65 آیت 8) خداوند کا پہاڑ ، خداوند کی ہیکل، محکم قلعہ (زبور باب 61 آیت 5) خدا کی چٹان (زبور باب 61 آیت 5) عمر درازی کی برکت کی