مسیح کشمیر میں — Page 39
39 اونچی جگہ چڑھنے کا مفہوم زبور باب 68 آیت 18 کا ترجمہ عیسائیوں نے یہ کیا ہے کہ ” تو اونچے پر چڑھا اور اس سے مراد لیتے ہیں کہ وہ صلیب پر چڑھا اور بعض کہتے ہیں کہ آسمان پر چڑھا۔لاطینی بائیل میں اس کا ترجمہ کیا گیا ہے(HIGH MOUNT اونچائیلہ اور یہ ہو بہو قرآن کے لفظ ربوہ کا ترجمہ ہے جس کی طرف مسیح کے پناہ لینے کا ذکر پہلے باب میں گزر چکا۔اس سے یہ امر بالکل صاف ہو جاتا ہے کہ اس جگہ آرامی لفظ کا ترجمہ اونچے پر چڑھا“ کیا گیا ہے۔اس سے بلند و بالا پہاری علاقہ کی طرف جانے کا اشارہ تھا۔اسکی تائید اوپر کی تصریحات سے بھی ہوتی ہے اور مزید حوالوں سے بھی۔چنانچہ زبور باب 91 آیت 14 میں یہ فرمایا کہ ” خدا کا نام تجھے بلندی پر قائم کرے۔“ تفسیر زبور میں پادری بجے علی بخش نے اسکی تفسیر میں لکھا ہے کہ وہ تجھے سلامتی سے بلند جگہ پر پہنچا دے۔“ اس وجہ سے پروفیسر چارلس کٹلر لوڑی نے جو سامی زبانوں کے ماہر ہیں جنہوں نے اناجیل اربعہ کا ترجمہ آرامی زبان کو مد نظر رکھ کر کیا ہے، مرقس اور لوقا کی اناجیل سے مسیح کے آسمان پر جانے کی آیات حذف کر دی ہیں کیونکہ وہ الحاقی ثابت ہو چکی ہیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ یعنی متن آرامی زبان کے مفہوم کو ادا کرنے سے قاصر رہا ہے جس میں مسیح اور اس کے حواری کلام کرتے تھے۔مثلاً انجیل یوحنا میں جہاں لکھا ہے کہ ضرور ہے کہ ابن آدم اٹھایا جائے ( یوحنا باب 12 آیت 34) وہاں آرامی زبان کے اصل الفاظ کا مفہوم یہ تھا کہ مسیح کیلئے ضروری ہے کہ وہ یہاں سے چلا جائے۔چنانچہ انہوں نے یہ ترجمہ کیا ہے کہ ابن آدم (مسیح) ضرور ( فلسطین سے ) جانے والا ہے۔یونانی زبان کا جو لفظ اوپر سے اٹھائے جانے کے معنی دیتا ہے، بسا اوقات اسکے معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے بھی ہوتے ہیں اور سیاق وسباق سے دیکھا جائے تو اٹھائے جانے“ کے الفاظ میں سے کسی اور علاقہ کی طرف خدا کی خاص حفاظت میں جانے کا اشارہ تھا۔یہودی مخاطبین بھی یہی معنی سمجھے چنانچہ انہوں نے سوال کیا کہ ہم نے تو شریعت کی یہ بات سنی ہے کہ مسیح ہمیشہ تک یہاں رہے گا پھر تو کیوں کر کہتا ہے کہ ضرور ہے کہ ابن آدم اٹھایا جائے ، یہ ابن انسان کون ہے ؟ یسوع نے ان کو جواب دیا ” اور تھوڑی دیر تک نور تمہارے درمیان ہے جب تک نور تمہارے درمیان ہے چلے چلو۔‘ ( یوحناباب 12 آیت 34-35) ایک اور جگہ یوحنا کی انجیل میں ہے کہ یہودیوں نے کہا تھا کہ اس کا اشارہ کس طرف جانے کو ہے۔کیا یہ فورگاه سپل از چارلس کٹلر لوڑی صفحه 214