مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 38 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 38

38 خداوند میرا چوپان ہے مجھے کمی نہ ہوگی وہ مجھے ہری ہری چراگاہوں میں بٹھلاتا ہے وہ مجھے راحت کے چشموں کے پاس لے جاتا ہے وہ میری جان کو بحال کرتا ہے وہ مجھے اپنے نام کی خاطر صداقت کی راہوں پر لے چلتا ہے۔بلکہ خواہ موت کے سایہ کی وادی میں سے میرا گزرہو میں کسی بلا سے نہیں ڈروں گا کیونکہ تو میرے ساتھ ہے (1 تا 4 ) میں بہت دنوں تک خداوند کے گھر ( مقدس ہجرت گاہ ) میں سکونت کروں گا ( آیت 6 )‘“ زبور 119 آیت 17 تا 19 میں ہے ”میں زمین پر مسافر ہوں۔اس آیت سے بھی اشارہ ہے کہ مسیح زمین پر سفر کریگا نہ آسمان کی طرف۔زبور باب 4 آیت 8 اور باب 116 میں ہے۔”میں سلامتی سے لیٹ جاؤں گا اور سور ہوں گا۔“ ( یعنی مروں گا نہیں ) زبور 127۔2 میں ہے، خداوند کی ستائش کرو۔خداوند یروشلم کی تعمیر کرتا ہے وہ بچھڑے ہوئے اسرائیلیوں کو جمع کرتا ہے۔کتاب یوز آسف میں بھی یوز آسف کی آخری وصیت (جو وفات کے وقت کی ) یہی بات بیان ہوتی ہے کہ میں منتشر مومنوں کو جمع کرنے کیلئے آیا تھا۔سو میں نے یہ مقصد پورا کیا اور میں نے یہاں (کشمیر میں ) مقدس یور و ظلم تعمیر کیا۔( تفصیل اپنے مقام پر آئیگی ) زبور 24 آیت 3 و 4 میں ہے۔66 ” خداوند کے پہاڑ پر کون چڑھ سکتا ہے اور اسکے مقدس مکان پر کون کھڑا رہ سکتا ہے۔وہی ہے جس کے ہاتھ صاف ہیں اور دل پاک ہے۔زبور باب 27 آیت 5-6 میں ہے کہ وہ مجھے چٹان پر چڑھائے گا۔سواب میں سارے دشمنوں میں جو میرے آس پاس ہیں سر بلند کیا جاؤں گا۔“ زبور باب 20 آیت 6-7 میں فرمایا ” میں جانتا ہوں کہ خداوند اپنے مسیح کو چھڑانے والا ہے اور وہ اپنے داہنے ہاتھ کے نجات دینے والے زور سے اپنے مقدس آسمان سے اسکی دعا سنے گا۔وہ تو جھکے اور گرے پڑے، پر ہم اٹھے اور سیدھے ہو گئے ہیں۔(آیت 8) مصیبت کے دن خداوند تیری سنے ، یعقوب کے خدا کا نام تجھے بلندی پر قائم کرئے (آیت 9) چٹان پر چڑھانا، سر بلند کرنا ، دشمنوں کا نا کام ہو کر گر جانا اور مسیح کا قبر سے اٹھنا اور مسیح کا بلندی پر قائم ہونا ا وَينَا هُما إلى ربوة اور مرفوع الى الله ہونے کی الہامی تفسیر اور تائید ہے۔مسیح ناصری کا قبر سے اٹھنا۔بلند ٹیلوں کی سرزمین کی طرف مرفوع ہونا اور آپ کی روح کا طبعی وفات پا کر خدا کی طرف اٹھایا جاتا سب رفع الی اللہ کے مفہوم میں شامل ہے۔