مسیح کشمیر میں — Page 31
31 کھلی دلالت کر رہا ہے کہ اس نے فلسطین سے ہجرت کر کے کامیابی حاصل کی نہ یہ کہ وہ بحالت نا کا می زندہ آسمان پر اٹھالیا گیا۔ہجرت گاہ ( کشمیر ) میں اس نے اپنے علم و عرفان سے نیک بندوں میں سے بہتوں کو راستباز ٹھہرایا اور خدا کے نبیوں کے ساتھ اسے حصہ ملا اور طاقتور ظالموں سے اس نے نیکوں کو اپنے دامن سے وابستہ کر کے بطور غنیمت حصہ پایا کیونکہ یہ مرید مقابلہ کے بعد پیدا ہوئے اسلئے انہیں مال غنیمت قرار دیا گیا جو ظالموں سے لی گئی۔جو خطا کار لوگ اسے خدا کا نافرمان جانتے تھے اور ان پر سختی کرتے تھے ، لیکن انہوں نے انکے ظلم و جفا کو برداشت کیا اور ایماندار خطا کاروں کیلئے شفیع بنے۔اگر چہ ان آیات میں صاف طور پر مسیح کے صرف مارنے اور پیٹے جانے اور زخمی ہونے کا ذکر ہے نیز غمگین ہونے کا، نہ کہ مقتول ہونے کا یا مر کر زندہ ہونے کا ، تاہم انکے بعض فرقوں کے مسیحی لوگ یہی تاویل کرتے ہیں کہ مسیح مقتول ہو گیا تھا اور پھر زندہ ہوا۔لیکن ان کا یہ استدلال ان صاف عبارتوں کے مقابل میں جن میں مسیح کے صرف زخمی ہونے اور غمگین ہونے کا ذکر ہے درست قرار نہیں پاسکتا۔بلکہ ان عبارتوں سے مرادصرف یہی لی جا سکتی ہے کہ مسیح نے اپنی طرف سے جان کی قربانی پیش کر دی تھی اور اسکی حالت مردہ کے مشابہ ہو گئی تھی لیکن وہ مر نہیں تھا بلکہ انتہائی غشی کی حالت میں تھا اور اس وجہ سے مردہ سمجھ لیا گیا۔بہر حال عیسائی ان آیات سے یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ وہ زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا کیونکہ ان آیات سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ اسکی عمر لمبی کی گئی اور اسی زمین پر اس نے اپنی نسل کو دیکھا نیک لوگوں میں لمبی عمر پا کرفت ہوا اور دفن ہوا۔اب عیسائیوں کیلئے ان آیات کی روشنی میں مسیح کی صرف ہجرت گاہ کی تلاش ضروری رہ جاتی ہے جہاں اس نے باقی عمر بسر کی اور اپنی نسل کو دیکھا۔اسکی تائید میں انا جیل سے بعض اور عبارتیں بھی ملتی ہیں۔مثلا مسیح نے خود فرمایا ” میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانہ کی نہیں (یعنی فلسطین میں آباد نہیں) مجھے انکو بھی لانا ضرور ہے۔پھر ایک ہی گلہ اور ایک ہی گلہ بان ہوگا۔( یوحنا باب 10 آیت 16 ) پھر یہ بھی فرمایا ” میں جاتا ہوں تم مجھے ڈھونڈو گے۔۔۔جہاں میں جاتا ہوں تم نہیں آسکتے۔‘اور حز قیل باب 34 مسیح چوپان کے تحت لکھا ہے کہ ”میں آپ ہی اپنی بھیڑوں کی تلاش کروں گا اور انکی خبر لوں گا جس طرح چرواہا اپنی بھیڑوں کی خبر پالیتا ہے۔" ( آیت (11) ظاہر ہے کہ مسیح خود بہ نفس نفیس اپنی بھیڑوں کی تلاش میں آئے جہاں انہوں نے لبی عمر پائی اور اپنی نسل دیکھی اور وفات پائی اگر چہ عیسائیوں پر مسیح کی ہجرت گاہ