مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 22 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 22

22 عراق میں مسیح و مریم کی آمد عراق وایران کی کتب اور تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح عراق میں پہنچے اور وہاں سے آگے گزرے۔چنانچہ تفسیر قمی، تفسیر عمدۃ البیان ، اکمال الدین اور دیگر تفاسیر میں آیت وَاوَيُنَاهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَار وَسَعِين (مومنون: 51) کی تفسیر میں لکھا ہے کہ مسیح ومریم کو کر بلا کی سرزمین عراق میں پناہ دی گئی۔اس تفسیر سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح و مریم کچھ عرصہ ضرور یہاں ٹھہرے۔بعض روایات میں ہے کہ مَرَّ بِأَرْضِ كَرْ بَلامَعَ الحَوَارِيُّونَ یعنی مسیح ارض کربلا سے حواریوں سمیت گزرے۔مڑ کا لفظ دال ہے کہ یہاں مستقل قیام نہیں کیا تھا بلکہ یہاں سے گزر کر ا گلے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔بحارالانوار میں ملا باقر مجلسی نے روایت لکھی ہے کہ عراق میں اس جگہ جہاں بعد میں مسجد برا ثا بن گئی ایک عیسائی معبد تھا۔اس میں جو عیسائی راہب رہتا تھا اس نے جب برضا و رغبت اسلام قبول کر لیا تو حضرت علیؓ نے اس سے پوچھا کہ اس معبد میں کس نے نماز پڑھی تھی تو اس نے کہا کہ حضرت عیسی اور اسکی ماں نے نماز پڑھی تھی۔حضرت علیؓ نے فرمایا کہ یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی نماز پڑھی تھی۔( بحارالانوار جلد 5 صفحہ 330-331 مطبوعه طهران) بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ ارض عراق میں حضرت مسیح و مریم اور آپ کے حواریوں نے بارہ سال گزارے۔حضرت مریم کے چا کا بیٹا یوسف بن ماثان بھی ہمراہ تھا۔حضرت مریم نے سوت کات کر مع عیسی گزارہ کیا۔جیسا حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی معاش اپنی ماں کی کتائی پر تھی۔پطرس کا پہلا خط جو انجیل میں شامل ہے، بتلاتا ہے کہ پطرس اور مرقس دونوں حضرت مسیح کے ساتھ بابل (عراق) میں موجود تھے اور اس خط میں لکھا ہے کہ ایک معزز خاتون اپنی دعائیں اور برکات مغرب کی طرف رہنے والے عیسائیوں کو بھیجتی ہیں۔(1۔پطرس باب 5 آیت 13-14) عیسائیوں سے عام طور پر مسلم ہے کہ " عورت " سے علامتی طور پر مریم مراد ہوتی ہے۔(دیکھودی بک آف میری صفحه 133) پس پطرس کے خط میں جس معزز خاتون کا ذکر ہے وہ حضرت مریم والدہ مسیح تھیں جو کہ بابل (عراق) میں مسیح کے ساتھ موجود تھیں۔عیسائی مؤرخین لکھتے ہیں کہ کلدانی یعنی عراقی مؤرخین نے بالا تفاق لکھا ہے کہ عراق ، رشور اور بابل میں تھو ما اور بر تلما ئی حواریوں نے تبلیغ کی۔بحارالانوار جلد 13 صفحہ 155 تفسیر منہج الصادقین۔کاشانی زیر آیت ”ربوہ“ مومنون عربستان میں مسیحیت صفحہ 93-94