مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 21 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 21

21 مكة والصلیب یعنی رپ مکہ اور صلیب کی قسم (صفحہ 130 ) ان مسیحی روایات سے بھی عرب اور مکہ میں مسیح و مریم کی آمد اور حج کرنے کی تائید ہوتی ہے۔مسیحی روایات کی مزید تائید مسلم لٹریچر سے ہو جاتی ہے۔اصول کافی میں امام ابوعبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سب نے کعبہ کا حج کیا اور یہاں حاضری دے کر لبیک (یعنی اے خدا میں حاضر ہوں ) کہا۔(کتاب الحج باب حج الانبیاء صفحہ 427 مطبوعہ نول کشور لکھنو ) اسلامی تاریخ کی کتاب ”اخبار مکہ میں ہے کہ حضرت مسیح نے کعبہ کا حج کیا اور حواریوں نے بھی حج کیا۔حواری پا بر ہنہ ارض حرم میں داخل ہوئے۔(اخبار مکہ صفحہ 35) ملا باقر مجلسی نے بحارالانوار میں امام ابی عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام روحا کے میدان سے گزرے اور انہوں نے یہاں لَبَّيْكَ عَبْدَكَ وَابْنَ أُمَتِكَ لَبَّيْكَ هي ( جلد 5 صفحہ 328) یعنی اے اللہ ! میں تیرے دربار میں حاضر ہوں۔تورات میں حضرت موسیٰ کے حج کرنے کی طرف بھی اشارہ آیا ہے۔(دیکھو خروج باب 10 آیت 9) اور اسلامی روایات میں بھی انبیاء کے حج کا ذکر آیا ہے تو ضروری تھا کہ حضرت مسیح بھی کعبہ کا حج کرتے کیونکہ کعبہ کی زیارت اور اس کی تقدیس کرنا نہ صرف عہد اسلام سے رائج ہوا بلکہ حضرت ابراہیم واسماعیل کےعہد سے ذریت ابراہیم میں رائج چلا آرہا تھا۔احمد نبی کی بشارت اسلامی لٹریچر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح نے اسی سفر کے دوران اپنے بعد ایک عظیم الشان نبی کی بعثت کی بھی بشارت دی تھی اور بتلایا تھا کہ اس کا نام احمد ہوگا اور دوسرا نام محمد بھی ہو گا اور وحی الہی میں جو آپ پر نازل ہوئی آپ کو حکم ملا کہ ” تو لوگوں کو خبر دے دے کہ جب وہ نبی آجائے تو اس پر ایمان لائیں۔جواس کی اطاعت کریگا وہ میری اطاعت کریگا اور جو اسکی نافرمانی کریگا وہ میری نافرمانی کریگا۔جو انا جیل میں ہے کہ حضرت مسیح نے متعدد بار اپنے بعد دوسرا مددگار روح القدس ثانی یا تسلی دہندہ (یونانی میں فارقلیط) کے آنے کی بشارت دی (دیکھو یوحنا باب 14 آیت 26 باب 16 آیت 7-8 ) ان الفاظ سے آپ نے دراصل اپنے بعد اسی احمد نبی کے آنے کی طرف اشارہ کیا ہے۔انجیل برنباس میں جسے عیسائی معتبر نہیں جانتے ، احمد کے نام سے بھی حضرت مسیح کی اس بشارت کا ذکر پایا جاتا ہے۔(دیکھو انجیل برنباس باب 63 آیت 180) حیات القلوب جلد از ملا باقر مجلسی در بیان احوال عیسی مطبوعه ایران و بحارالانوار جلد 5 صفحه 340