مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 20 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 20

20 میں پہنچے اور جب تک حالات سازگار رہے، یہاں قیام کیا۔یہ بھی لکھا ہے کہ 50 ء میں حضرت مسیح کے حکم سے حواریوں کو اطراف عالم میں تبلیغ کیلئے بھیجا گیا جس سے ظاہر ہے 50 ء میں حضرت مسیح زمین پر موجود تھے اور بنفس نفیس سلسلہ تبلیغ چلا رہے تھے۔ارض عرب میں آمد اور حج بیت اللہ نصیبین کے بعد حضرت مسیح کا حواریوں اور مریم سمیت ارض عرب میں آمد ، حج کعبہ کرنے اور چشمہ زمزم کے پاس مریم کی موجودگی کا ذکر آتا ہے۔چنانچہ متیب اب 4 آیت 24-25، مرقسب اب 3 آیت 7 ، لوقا باب 6 آیت 17 میں ان عرب لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو مسیح نے اپنا کلام سنایا۔لوگوں کی ایک بھیڑ ان کے پیچھے چلتی تھی۔ان میں اہلِ ادوم اور اردن سے پار کے علاقہ کا ذکر آیا ہے جہاں کثرت سے عرب لوگ آباد تھے۔پولس رسول اپنے خط گلیوں باب 1 آیت 12 تا 17 میں لکھتا ہے کہ میں مسیح کی صداقت پر مشتمل مکاشفہ کے بعد یوروشلم نہیں گیا بلکہ سیدھے عرب چلا گیا۔اس جگہ ہر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ وہ فور سید ھے عرب کیوں چلا گیا؟ صاف ظاہر ہے کہ ان ایام میں حضرت مسیح خفیہ سفر کر کے عرب پہنچ چکے تھے اسلئے وہاں جا کر آپ سے ملاقات کی اور پھر واپس دمشق آیا۔عربستان میں مسیحیت نامی کتاب میں مذکور ہے کہ مکہ کے قریب مسجد مریم نامی ایک جگہ کا نام تھا۔(صفحہ 130 ) زمانہ نبوی میں کعبہ میں مسیح کی تصویر کا آویزاں ہونا مشہور ہے اور امیـــه بــن ابـی الصلت ایک قصیدہ درج کیا گیا ہے جس میں مریم کے متعلق ایک یہ شعر بھی ہے۔وَلَطَّتُ حِجَابَ الْبَيْتِ مِنْ دُونِ أَهْلِهَا تَغَيَّبُ عَنْهُمْ فِي صَحَارِيٌّ رِمُرِمِ (صفحہ 364) یعنی حضرت مریم نے گھر کے پردے اسکے لوگوں سے لپیٹ دیے اور ان سے صحرائے رمرم میں غائب ہو گئیں۔( رمرم بجائے زمزم سہوا کتابت لکھا گیا معلوم ہوتا ہے) عیسائی مصنف نے اسلام سے قبل کے عرب مسیحیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مسیحی شعراء میں کعبہ کی بڑی عزت تھی اور وہ صلیب کے ساتھ کعبہ کی بھی قسم کھاتے تھے اور کہتے تھے وَرَبِّ لی عربستان میں مسیحیت از پادری سلطان محمد پال - صفحہ 110 مطبوعہ ریلیجس بک سوسائٹی لاہور 1945ء