مسیح کشمیر میں — Page 19
19 بقیہ زندگی گزار کر وفات پائی اور آپ کا مقبرہ بنایا گیا یہی بیان ایک اور اہم کتاب ”عین الحیات“ نامی میں بھی درج ہے۔اس کتاب میں ” یوز آسف کے واقعات کی تفصیل“ کے عنوان کے تحت یوز آسف کے سفر کشمیر اور وہاں وفات پانے کا ذکر کیا گیا ہے۔(دیکھو عین الحیات جلد 2 باب 2 صفحہ 177-178) نصیبین میں حضرت مسیح و مریم کی آمد محمد خاوند شاہ نے روضۃ الصفاء“ کے نام سے ایک ضخیم تاریخ فارسی زبان میں لکھی ہے اور یہ کتاب 1271 ہجری میں بمبئی میں طبع ہوئی ہے۔اس میں مصنف نے حضرت عیسی کے حالات میں آپ کے دور دراز سفر کرتے رہنے کا ذکر کیا ہے۔”حضرت عیسی کی مہاجرت“ کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ جب یہود نے آپ کی نبوت کی تکذیب کی اور آپ کو وطن سے نکال دیا تو آپ سفر پر نکل پڑے۔آپکی والدہ مریم آپ کے ہمراہ تھیں۔آپ نصیبین پہنچے۔مریم کے علاوہ یعقوب، شمعون اور تھو ما حواری اور بعض روایات کے مطابق حضرت مریم کے چا کے بیٹے یوسف بن مانان بھی آپ کے ساتھ تھے نصیبین میں آپ نے سام بن نوح کی قبر کی زیارت کی۔یہاں کے کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔بعض روایات میں ہے کہ نصیبین سے آپ نے بعض حواریوں کو روم، بعض کو انطاکیہ اور تھوما کو ہندوستان میں تبلیغ حق کیلئے بھیج دیا تھا۔جسے عیسائی ” تو ما رسول ہنڈ“ لکھتے ہیں۔روضتہ الصفاء میں ایسے قصوں کو جو خلاف عقل و نقل ہیں چھوڑتے ہوئے ہم صرف تاریخی امور کو بیان کرتے ہیں۔مصنف لکھتا ہے آپ ہاتھ میں عصا لیے سفر کرتے رہتے تھے۔جہاں رات آئی وہاں رات گزارتے ، زمین پر سو جاتے ، پتھر کو سرہانہ بناتے ، ساگ پات کھا گزارہ کرتے ، پیدل چلتے اور دنیا اور عورتوں کی طرف مائل نہ ہوتے اور قناعت کی زندگی بسر کرتے تھے۔“ (دیکھئے روضۃ الصفاء (فارسی) صفحہ 132 تا 134 ملخصاً مطبوعہ بمبئی 1271ھ) عیسائی لٹریچر میں لکھا ہے کہ سریانی کلیساؤں میں مشہور تھا کہ الڑھا (نصیبین ) کے بادشاہ اباجر معروف بہ او خاما نے مسیح کو واقعہ صلیب کے بعد خط لکھا تھا کہ یہودی آپ کو تکلیف دے رہے ہیں۔آپ میرے پاس آجائیں۔اباجر کو بہ گر، ایگر اور ایگر س بھی لکھتے ہیں اور تاریخیں بتلا رہی ہیں کہ آپ نصیبین اسرائیلیوں کی قبریں مشرق سے مغرب کی طرف ہوتی تھیں نہ کہ شمالاً جنو با۔پس یوز آسف کا اسرائیلی ہونا اس سے بھی ثابت ہے کہ اس کا مقبرہ شرقاً غرب بنا۔عربستان میں مسیحیت از پادری سلطان محمد پال۔صفحہ 110 مطبوعہ ریلیجس بک سوسائٹی لاہور 1945 ء۔