مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 16 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 16

باب دوم 16 مشرقی لٹریچر میں حضرت مسیح کے کشمیر جانے کا ذکر حضرت عیسی فلسطین سے نصیبین نصیبین سے بغرض حج مکہ اور پھر عراق ، عراق سے ایران اور گلگت ، : لداخ، نیپال، تبت سے ہو کر کشمیر پہنچے اور ان ملکوں میں جہاں جہاں بنی اسرائیل آباد تھے ان تک خدا کا پیغام پہنچایا اور ان ملکوں کی قدیم تاریخوں اور آثار سے سفر مسیح کی تصدیق اور قرآنی تصریحات کی تائید ہوتی ہے کہ مسیح و مریم کو ایک جنت نظیر وادی میں پناہ دی گئی تھی۔یوز آسف کے نام سے مسیح کا سفر ایران کی قدیم مذہبی تاریخی کتب میں یوز آسف کے نام سے مسیح کے سفر، دعوی نبوت اور کشمیر میں وفات کا ذکر ملتا ہے اور وادی قمران سے برآمد شدہ آثار اور کشمیر کی تاریخوں سے اب ثابت ہو چکا ہے کہ 66 یوز آسف مسیح کا ہی ایک نام تھا۔شیعہ فرقہ کی ایک کتاب ” اکمال الدین و تمام النعمت في اثبات الغيبية وكشف الحيرت “ جو شیخ سعید الصادق ابی جعفر محمد بن علی ابن حسین ابن موسی ابن بابویہ اتمی کی تصنیف ہے۔مصنف تیسری اور چوتھی صدی میں گزرے ہیں۔آپ کی وفات 381 ھ مطابق 961ء خراسان میں ہوئی۔یہ کتاب مغربی مستشرقین کے نزدیک بھی ایک قیمتی کتاب ہے۔یہ کتاب سب سے پہلے سید السند پریس ایران میں آغا میر باقر علی نے چھپوائی۔پروفیسر مولر آف ہائیڈل برگ یونیورسٹی نے اس کا ترجمہ جرمن زبان میں کیا۔شیخ سعید الصادق نے اس کتاب میں یوز آسف کے متعلق بہت لمبی روایت درج کی جو کتاب کے صفحہ 317 سے 359 تک پھیلی ہوئی ہے۔اس روایت میں بیج بونے والی کی وہ مشہور تمثیل بھی درج ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام سے انجیلوں میں منسوب ہے۔نیز جیسا کہ انجیل میں ایمانداروں کیلئے آسمانی بادشاہت کا ذکر ہے اس روایت میں بھی اسی طرح مذکور ہے۔مصنف یوز آسف کے علاقہ سولابطہ میں جانے کا ذکر بھی کرتا ہے۔پھر یہ بھی ذکر کرتا ہے کہ یوز آسف البشریٰ نامی کتاب کی طرف لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے۔سولا بط کا محل وقوع تحقیق طلب ہے۔