مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 11 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 11

11 اسے انتہائی سے انتہائی مصائب سے بھی بدتر جانتے اور واقعی آپ پر یہ ظلم عظیم ہوتا کہ میں اپنا فرض منصبی ادا کرنے سے محروم کر دیا گیا ہوں اور میرا تنزل کیا گیا ہے۔سوخدا تعالیٰ آپ پر ایسا ظلم نہیں کر سکتا تھا کہ خود ہی انہیں اپنا فرض منصبی ادا کرنے سے محروم کر دیتا بلکہ اس کی رحمت اور فضل اس بات کا متقاضی تھا کہ وہ حضرت مسیح کی رہنمائی فرماتا اور انکے لئے بذریعہ ہجرت اپنی نصرت سے نواز کر فرض منصبی کو زمین کے کسی حصے میں ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اس طرح انکی رفعت کا موقع فراہم کیا نہ تنزل کا۔ایک شبہ کا ازالہ شاید کسی کے دل میں کھٹکے کہ قرآن مجید کی سورہ مومنون کی آیت مذکورہ میں صاف کشمیر کا نام کیوں نہ لیا گیا اور صرف حضرت مسیح کی پناہ گاہ کہنے پر اکتفا کیا گیا۔الجواب : نام نہ بتلانے میں ضرور اللہ تعالیٰ کی کوئی مصلحت ہے۔اس نے اپنی کسی خاص مصلحت کی بناء پر مسیح کی پناہ گاہ کا نام مخفی رکھا لیکن یہ بات اس نے اس سے واضح فرما دی ہے کہ مسیح کی جائے ہجرت اور پناہ گاہ آسمان نہیں تھا اور ایسا تصور کہ میچ کو زندہ آسمان پر اٹھالیا گیا قرآن کی اس آیت کے مخالف ہونے کی وجہ سے غلط ہے۔پس نام کے چھپانے میں اللہ تعالیٰ کے مدنظر بعض مصلحتیں تھیں جن میں سے ایک مصلحت تاریخی لحاظ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ پرانے زمانے میں کشمیر کا نام کچھ اور تھا۔مثلاً کا سامرا ستی سر، کسپریا وغیرہ اور کشمیر بھی اصل نام نہیں۔کیونکہ اصل نام جو مسیح کے یہاں آنے کے وقت معروف تھاوہ کشیر تھا نہ کشمیر۔دنیا میں اب معروف نام کشمیر ہے گواہل کشمیر اب تک کشیر ہی کہتے ہیں۔چونکہ نام سے ابہام واقع ہو سکتا تھا اسلئے مصلحت الہی نے نام ترک کر دیا اور صفات ایسی بتلائیں جو مسیح کی ہجرت کیلئے صرف اسی علاقہ پر منطبق ہوتی ہیں۔کیونکہ مسیح کی قوم بنی اسرائیل اسی علاقہ میں آباد چلی آرہی تھی اور یہ لوگ گمشدہ اسرائیلی قبائل میں سے تھے جن کے متعلق مسیح کا یہ فرض منصبی مقرر تھا کہ وہ ان تک بنفس نفیس پیغام خداوندی پہنچا ئیں۔پس خدا تعالیٰ نے یہ بات محققین پر چھوڑ دی کہ وہ اس جگہ کی دریافت کریں جو مسیح علیہ السلام کی پناہ گاہ بنائی گئی ، ماسوا اسکے مسیح کی آمد ثانی پیشگوئیوں کے لحاظ سے مقدر تھی اور اسکا کام احادیث نبویہ میں کسر صلیب بیان کیا گیا تھا جس کا ماحصل یہ ہے کہ مسیح صلیبی موت سے بچ گیا وہ زندہ آسمان پر نہیں گیا۔صلیبی موت سے بچ کر اس نے زمین پر ہجرت فرمائی۔ان سب باتوں کا پورا انکشاف خدا تعالیٰ نے مسیح