مسیح کشمیر میں — Page 5
5 رت و صلوة الله علیهم اجمعین کو کفار کی سازش سے اللہ تعالیٰ نے بچایا اسی طرح حضرت یسی علیہ السلام کو صلیبی موت سے بچایا۔کشمیر اور شام کی مشابہت کشمیر کا دوسرا نام کشیر بھی آپ کے سفر کشمیر کی طرف صریح اشارہ کر رہا ہے کیونکہ کشمیری زبان میں کشمیر کو کشیر کہتے ہیں جو دراصل عبرانی لفظ ہے اور ک اور اشیر سے مرکب ہے۔ک کے معنی ہیں مانند اور اشیر عبرانی زبان میں شام کو کہتے ہیں۔انگریزی میں (Assyria) اسیر یا اسی کو کہتے ہیں۔پس کاشیر کے معنی تھے ملک شام کی مانند مگر کثرت استعمال سے ک اشیر کا درمیانی الف گر گیا، کشیر رہ گیا۔غیر قوموں میں کشیر کی جگہ کشمیر مشہور ہے مگر کشمیری زبان میں مقامی لوگ کشمیر کو اب تک کشیر ہی کہتے ہیں بلکہ خود سرینگر جو کمر کا دارالخلافہ ہے بھی پہلے اشیری نگر کہلاتا تھا جوسور یہ یا سیر یا سے ہی ماخوذ ہے جو شام کا قدیم نام تھا۔بائیل میں ایک قبیلے کا نام اشیر آیا ہے۔( یشوع باب 19 آیت 24) ان کی اولاد کو بنی اشیر کہا جاتا ہے۔اشیر حضرت یعقوب کے بیٹوں میں سے بھی ایک کا نام تھا یہ لوگ آٹھویں صدی قبل مسیح کے زمانہ میں حملہ بخت نصر کے بعد شام سے بابل لائے گئے۔یہاں بھی انہوں نے سور یا نام شہر بسایا۔بعد کے زمانوں میں جب یہ لوگ تلاش معاش میں بابل سے کشمیر پہنچے تو کشمیر کو شام کی مانند ٹھنڈا ملک پاکر اس کا نام ” کا شیر رکھا۔یعنی ” ملک شام کی مانند اور ایک شہر اپنے قدیم وطن سوریہ کی یاد میں شیری یا سوریہ نام بسایا۔جسے ہندو مورخین شری نگر لکھتے رہے۔یہی اب سری نگر کے نام سے مشہور ہے۔( نگارستان کشمیر صفحہ 34) اہل کشمیر بنی اسرائیل ہیں اور مسیح ان کے رسول تھے آیت قرآنیہ وَرَسُولاً إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ کے مطابق حضرت مسیح کا پیغام حق پہنچانے کیلئے ان بنی اسرائیل کی طرف آنا بھی ضروری تھا جو کشمیر ، افغانستان ہندوستان اور تبت کے پہاڑی علاقوں میں سابق وقتوں کے انقلابات میں منتشر ہو کر پناہ گزین ہو چکے تھے۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ آج سے قریباً تین ہزار سال قبل کا واقعہ ہے کہ شاہ بابل بخت نصر نے شام پر حملہ کیا اور فلسطین کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور بارہ اسرائیلی قبائل کو اسیر کر کے بابل لایا اور انہیں بحیرہ کیسپین کے کنارے کیمپوں میں رکھا وہاں انہوں نے آس پاس واردا تین شروع کیں۔اس پر بادشاہ نے انہیں کیمپوں سے نکال کر فارس، مید یا وغیرہ کی نو آبادیات اور دور دراز جنگلوں میں بکھیر کر آباد کیا۔