مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 115 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 115

115 نامی عورتیں شریک سفر تھیں۔ایک آپ کی والدہ حضرت مریم صدیقہ دوسری مریم مگد لینی، تیسری مریم مسیح کی بہن۔چنانچہ 1945ء میں بالائی مصر کے ایک قبرستان سے جو آثار برآمد ہوئے ان میں باطنی فرقہ کے وہ صحائف بھی تھے جن میں فلپ کی انجیل بھی شامل تھی۔اس انجیل میں لکھا ہے۔"There were three who walked with the Lord, Mary his mother and his sister and Magdalene whom the called his consort۔For Mary was his sister and his mother and his consort۔" (P۔37) یعنی تین خواتین یسوع کے ساتھ ہمہ وقت شریک سفر تھیں، مریم اسکی ماں ، مریم اسکی بہن اور مریم مگر لینی ، مؤخر الذکر خاتون کو لوگ یسوع کی رفیقہ حیات بھی کہتے ہیں۔باطنی فرقہ کی یونانی کتاب ” پس ٹس صوفیہ میں لکھا ہے کہ جی اٹھنے کے بعد یعنی نئی زندگی پانے کے بعد بارہ سال یسوع مسیح نے حواریوں کے ساتھ بسر کیے۔اس دوران مریم والدہ یسوع اور مریم مگدینی کی موجودگی کا ذکر بھی اس صحیفہ میں ملتا ہے۔انجیل میں پطرس کا خط شامل ہے جو انہوں بابل سے لکھا۔اس میں پطرس ، مرقس اور انکے بعض شاگردوں کے علاوہ ایک معزز خاتون کی موجودگی کا بھی ذکر ہے جو کہ مغرب کے عیسائیوں کو سلام بھیجتی ہیں۔ملا باقر مجلسی نے اپنی کتاب بحارالانوار میں لکھا ہے کہ مریم اور مسیح ارض کربلا (بابل) سے حواریوں کے ساتھ گزرے۔( جلد 13 صفحہ 155) چوتھی صدی میں ایک عیسائی ولی اللہ مقدس اپی فینس لکھتے ہیں : کتاب مقدس میں نہ مریم کی وفات کا ذکر ہے نہ عدم وفات کا۔مریم کی تدفین کا ذکر بھی ہم نہیں پاتے۔یہ امر بھی کسی جگہ مذکور نہیں کہ جب یوحنا نے ایشیاء کی طرف کوچ کیا تو مریم انکے ہمراہ تھیں۔مکاشفات یوحنا عارف میں لکھا ہے کہ اثر دھا اس خاتون کی طرف لپکا جس نے ایک نرینہ بچے کو دنیا میں جنم دیا تھا۔اس حملہ کے وقت اس خاتون کو شاہین کے پیر عطا ہوئے تا کہ وہ بیابان میں بھاگ جائے اور اثر دھا اسے اپنی گرفت میں نہ لے سکے۔ممکن ہے یہ سب کچھ مریم کی ذات پایہ تکمیل کو پہنچا ہو۔تا ہم میں حتمی اور قانونی طور پر اسکی تصدیق نہیں کرتا۔میں اس امر کا بھی اعلان نہیں کرونگا کہ مریم زندہ جاوید ہے اور نہ ہی کیتھولک انجیل کے حاشیہ میں ہے کہ عورت سے اس مکاشفہ میں مراد مریم ہے جو یسوع کو جتنی تھی۔بائیل کی اصطلاح میں مریم اثر دھا سے مراد شیطان سیرت لوگ ہیں جو مریم کو ہلاک کرنا چاہتے تھے۔اور عقاب کے دو پر دیے جانے سے حفاظت کے ذرائع بہم پہنچانا مراد ہے۔