مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 109 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 109

109 اس طرح ایک اور افغانی مؤرخ اللہ بخش یوسفی مصنف ” تاریخ یوسف زی افغان سابق سیکرٹری آل انڈیا خلافت کمیٹی تاریخ مذکور میں افغانوں اور پٹھانوں کو بنی اسرائیل ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اسلام سے قبل افغان حضرت موسیٰ کی تو رات پڑھتے تھے اور بنی اسرائیل افغانی صلیب کا نشان بناتے تھے۔“ ( تاریخ مذکور صفحہ 879,880 مطبوعہ 1960ء) شیر محمد خان اپنی تاریخ خورشید جہاں (فارسی مطبوعہ 1311ھ 1894ء) میں پٹھانوں کو عبرانی الاصل اور پشتو زبان کے عبرانی الماخذ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔” پشتو زبان عبرانی لغات کے انقلاب سے تیار ہوتی ہے۔“ (صفحہ 53) اس طرح افغانستان کے آثار قدیمہ جن میں غزنی ، ہرات اور جلال آباد کے چبوترے یوز آسف اور مسیح کے نام پر اب تک موجود ہیں ، ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام سے قبل ان علاقوں میں یوز آسف کے ماننے والے موجود تھے اور علامہ ابن ندیم نے بھی ” فہرست میں ماوراء النہر کے لوگوں کو اسلام سے قبل یوز آسف کے پیر ولکھا ہے اور یہ کہ وہ سب سے زیادہ بھی ہوتے تھے اور فرقہ ثمینہ کے کے لوگ کہلاتے تھے۔6600 (184/187) علاقہ باجوڑ میں غازی بابا کا مزار اسلام سے قبل کا ہے اور سید عبدالجبار شاہ صاحب افغان قبائل کی تاریخ میں اسے کسی عیسائی بزرگ کا مزار قرار دیتے ہیں۔ایک اور مزار ریاست چترال کے شہر دروش کے ایک قریبی گاؤں ” کیسو میں ہے۔یہ قبر 7 فٹ لمبی اور 4 فٹ چوڑی ہے۔لوگ اس کے متعلق عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ کسی عیسائی بزرگ کی ہے جو عیسائیت کی تبلیغ کرتا ہوا کافر باشندوں کے ہاتھوں مارا گیا۔کیسو کرائیسٹ یعنی مسیح کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔کرائیسٹ کو فارسی میں ”کرستو“ لکھتے ہیں۔دریائے چترال کے مغربی کنارے ایک وادی یا نالہ ” تراژ گڑھ کے نام سے موسوم ہے ” ژاژ یسوع کا چترالی تلفظ ہے اس کے معنی ہیں یسوع کی رہائش گاہ۔اس مزار پر اب بھی بیمار لوگ روٹیاں لے جا کر بانٹتے ہیں اور بانٹنے تک کسی سے راستہ میں بات نہیں کرتے۔یہ رسم حضرت مریم کے روزوں سے مشابہ ہے۔یہ جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔بیان شہزادہ حسام الملک سابق گورنر در ولیش ( چترال (1956-7-25 الفرقان دسمبر 1957ء "