مسیح کشمیر میں — Page 108
108 میں لکھا ہے: ایشی شور کے متعلق خیال ہے کہ یہ موضع و تیر تھے الیش بڑ“ کے محل وقوع پر قائم تھا جوڈل کے شمال مشرقی کنارے پر نشاط باغ سے نصف میل شمال کی جانب واقع ہے۔”ایش برڑ“ کا قدیم نام ” الیش بردر کا مخفف معلوم ہوتا ہے۔اس لفظ کی آخری صورت ایشی شور سے بالکل مشابہ ہے۔’الیش بر“ میں باتری لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں۔( راج ترنگنی صفحه 186) تاریخ اقوام کشمیر کے مطابق ایشری کے نام سے ایک قبیلہ بھی کشمیر میں موجود ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ قدیم عیسائیوں سے ہی مسلمان ہوا ہے۔راج ترنگنی کے ان حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایشی شور کے اردگرد عیسی کے نام پر قدیم زمانہ میں ایک مقدس معبد موجود تھا جو خود مسیح کے ذریعہ قائم ہوا تھا۔راج ترنگنی میں یہ بھی لکھا ہے کہ قدیم زمانہ میں دور دراز ملکوں سے لوگ یہاں آخری لمحات گزار نے آیا کرتے تھے اور یہاں مرنے کو جنت میں داخلہ کا ذریعہ سمجھتے تھے۔(دیکھو راج ترنگنی صفحہ 421) اس سے ظاہر ہے کہ اس معبد کا مسیح کے ماننے والوں میں ایسا احترام تھا کہ دور دراز سے یہاں لوگ زیارت کیلئے آیا کرتے تھے اور یہاں وفات پانے کو جنت میں جانے کے مترادف سمجھتے تھے۔ایسے معبد کی موجودگی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ کشمیر میں بھی عیسائی بکثرت موجود تھے۔اگر مسیح کے پیر وموجود نہ ہوں تو ایسا معبد قائم نہیں ہو سکتا جس کی یہ شان ہو، جو بیان کی گئی ہے۔قدیم افغانستان میں عیسائی آثار افغانستان میں بھی بنی اسرائیل آباد ہیں۔افغانستان میں اسلام سے قبل عیسائیوں کی موجودگی کے بارے میں علامہ جمال الدین افغانی جو عالم اسلام کے مشہور راہنماؤں میں سے تھے اپنی ” تاریخ افغانستان میں افغانیوں کے اسرائیلی الاصل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔اسلام سے قبل افغانستان میں نصرانی مذہب کے لوگ موجود تھے بعد میں مسلمان ہو گئے۔ان میں نصرانی مذہب کے آثار پائے جاتے ہیں اور روٹی پر صلیب کا نشان بناتے ہیں۔( تاریخ افغانستان صفحه 24)